’پولیو کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت‘

Image caption پولیو سے انکار کی بڑ ی وجہ علاقے میں طالبان کا اثر و رسو خ اور مذہبی رجحان تھا: اکرم اللہ

پانچ سالہ شائلہ اپنےگھر کے باہر کھڑی حسرت بھری نگاہوں اور پرنم آنکھوں سے اپنے گاؤں کے دوسرے بچوں کو کھیلتا دیکھ رہی تھی۔

شائلہ خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقہ وادی تیراہ میں ایک کچے مکان میں رہتی ہیں اور حال ہی میں پولیو سے متاثر ہو کر مفلو ج ہوگئی ہیں۔

شائلہ کے والد اکرام اللہ خان ایک دکاندار ہیں جنھوں نے اپنی بیٹی کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے سے انکار کر دیا اور ان کی بیٹی پولیو سے متاثر ہو گئی۔

اکرام اللہ نے روتے ہوئے کہا ’پولیو سے انکار کی بڑی وجہ علاقے میں طالبان کا اثر و رسوخ اور مذہبی رجحان تھا۔ کاش میں یہ غلطی نہ کرتا اور میری بیٹی ڈاکٹر بن کر دیگر قبائلی خواتین کی خدمت کر سکتی‘۔

خیبر ایجنسی میں گزشتہ کئی سالوں سے کشیدہ صورتحال اور فوجی آپریشن کے باعث پولیو مہم شدید متاثر ہوئی ہے جس کے باعث وہاں پولیو کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔

خیبر ایجنسی کے سرجن ڈاکٹر ثمین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صورت حال اور سکیورٹی خدشات کے باعث شورش زدہ علاقے تیراہ اور باڑہ میں پولیو مہم نہیں چلائی جا سکی۔

انھوں نے بتایا کہ اس صورتحال کی وجہ سے ہزاروں بچے پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں جس سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈا کٹر ثمین خان کے مطابق جن علاقوں میں امن و امان کی صورت حال نسبتاً ٹھیک ہے وہا ں پولیو مہم کامیابی سے جاری ہے۔

پولیو کے خاتمے کے لیے قائم حکومتی ادارے ای پی آئی کے انچارج ڈاکٹر عثمان کے مطابق پاکستان میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ خیبر ایجنسی ہے جس کی ا ہم وجہ یہاں امن وامان کی صورت حال اور افغانستان کا سرحدی علاقہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرایجنسی کے ساتھ افغانسان کا سرحدی علاقہ ہونے سے افغان بچے پا کستان میں داخل ہوتے ہیں جس سے پولیو کا وائرس پاکستانی بچوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔

ڈا کٹر عثمان نے کہا کہ خیبر ایجنسی سے پولیو وائرس ختم کر نے کے لیے بھر پور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت پاکستان کو ملک اور خصوصاً قبائلی علاقہ جات میں پولیو کے خاتمے کےحوالے سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے جس کی بڑی وجہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پولیو ٹیموں پر کیے جانے والے حملے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پولیو مہم کی مخالفت میں اضافے کی اہم وجہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جعلی پولیو مہم بھی ہے جنہوں نے سنہ 2011 میں ا لقاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے ایبٹ آباد میں جعلی مہم چلائی جس کے بعد پولیو کےحوا لے سے لوگو ں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور طالبان نے پولیو ورکرز اور ٹیموں پر حملے شروع کر دیے۔

طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں پولیو سے متاثرہ علا قے خیبر ایجنسی میں پولیو کے خلاف شعور اور امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھانا چاہیے تاکہ پولیو وائرس پر قابو پایا جا سکے۔

اسی بارے میں