چیئرمین سینیٹ کو توہینِ عدالت کا نوٹس

Image caption سپریم کورٹ نے گزشتہ برس رحمان ملک کے خلاف کارروائی کے لیے کہا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین کو توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔

پاکستانی دستور کے مطابق صدر کے بعد چیئرمین سینیٹ دوسرا بڑا آئینی عہدہ ہے۔

ادھر ملک کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے توہینِ عدالت کے ہی معاملے میں سپریم کورٹ سے غیرمشروط معافی طلب کی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی طرف سے چیئرمین سینیٹ نیئر بخاری کو یہ نوٹس سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کی دوہری شہریت سے متعلق ریفرنس الیکشن کمیشن کو نہ بھیجنے پر دائر کی جانے والی درخواست پر منگل کو جاری کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے گُزشتہ برس رحمان ملک کی دوہری شہریت ثابت ہونے پر کہا تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اُترتے اس لیے وہ پارلیمنٹ کے رکن نہیں بن سکتے اور چیئرمین سینیٹ اُن کے خلاف کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجیں۔

چیئرمین سینٹ کی طرف سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ متعلقہ حکام کی طرف سے سابق وزیر داخلہ کے خلاف بروقت ریفرنس نہ بھیجنے کی وجہ سے رحمان ملک نے پہلے تو سینیٹ کی رکنیت سے استفی دیا اور پھر ساز باز کر کے دوبارہ سینیٹ کے رکن بن گئے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ بتائیں کہ کن وجوہات کی بنا پر اُنہوں نے اتنے عرصے سے عدالتی حکم پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے توہین عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس پر سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے بحثیت وزیر اعظم کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کے بارے میں سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں