چین توانائی کے بحران کے حل میں مدد کو تیار

Image caption دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ آزمودہ دوستی کو مستحکم کرنا ہے: لی کی چیانگ

چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پاکستان کو توانائی کے بحران کے حل میں مدد کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار کے مشترکہ منصوبوں پر کام کرنا چاہیے۔

بدھ کو دو روزہ دورے پر اسلام آباد آمد کے موقع پر لی کی چیانگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو توانائی اور بجلی کی پیداوار کے شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر منصوبے شروع کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

لی کی چیانگ کا کہنا تھا کہ ’دونوں جانب کو توانائی کے شعبے میں ترقی اور بجلی کی پیداوار کے ترجیحی منصوبوں اور چین۔پاکستان معاشی راہداری کی تعمیر و ترویج پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان میں چین کے تعاون سے بجلی کی پیداوار کے کئی منصوبے پہلے ہی جاری ہیں جن میں چشمہ پاور پروجیکٹ نمایاں ہے۔

لی کی چیانگ نے اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں ان کی اعزاز میں دیے گئے ظہرانے کے موقع پر اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ سٹریٹیجک تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے آئے ہیں اور حالات کچھ بھی ہوں پاک چین تعلقات مضبوط رہیں گے۔

پاکستان کی سرکاری ٹی وی پر براہِ راست دکھائی جانے والی تقریب میں پاکستان مسلم ن کے سربراہ میاں نوازشریف اور دوسرے اہم پاکستانی اور چینی رہنماؤں نے شرکت کی۔

چین کے وزیراعظم نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ آزمودہ دوستی کو مستحکم کرنا اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ چین اپنی دوستی جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

لی کی چیانگ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح پر رابطے ان کے گہرے باہمی تعلقات کے عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تعلقات میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید اضافہ ہوا ہے اور ان کا ملک پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنی تقریر میں کہا کہ دونوں ممالک میں وسیع معاشی مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

چینی وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر متعدد اہم سمجھوتوں اور معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی،خلائی مواصلات اور توانائی کے شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں اسٹریٹیجک تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صدر پاکستان اور میں نے ابھی ابھی دونوں ملکوں کے درمیان معیشت، ثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط ہوتے دیکھے ہیں۔ دونوں ملکوں کی خواہش ہے کہ چین کی اپنی اندرونی طلب اور اپنے مغربی حصے کی ترقی کی حکمت عملی کو پاکستان کی معاشی ترقی کی خواہش سے جوڑا جائے تاکہ دونوں ملک باہمی فائدے کے لیے ایک ساتھ ترقی کرسکیں۔

اس سے پہلے جب چینی وزیرِاعظم اپنے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انھیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ خیال رہے کہ چین کے وزیراعظم کا عہدہ سنھبالنے کے بعد لی کی چیانگ کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ اپنے پہلے بیرون ملک دورے پر بھارت گئے تھے۔

چینی وزیرِاعظم کی آمد کے موقع پر دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد میں کچھ وقت کے لیے موبائل فون سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

چینی وزیراعظم ایسے وقت پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں پہلی بار اقتدار جمہوری طور پر منتخب ہونے والی ایک حکومت سے جمہوری طور پر منتخب ہونے والی دوسری حکومت کو منتقل ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں