’فرینڈلی پراسیکیوشن‘

Image caption استغاثہ کے وکیل نے سابق صدر کے خلاف ایک بھی ایسی دلیل نہیں دی جس سے جج متفق ہوئے ہوں

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی جس طرح سرکاری وکیل نے پیروی کی اُس سے کہیں سے بھی یہ ثابت نہیں ہو رہا تھا کہ وہ ایک بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیت کے قتل کے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں۔

قتل کے اس مقدمے میں نامزد ملزم اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران استغاثہ کے وکیل چوہدی اظہر کی طرف سے ایک بھی ایسی دلیل نہیں دی گئی جس سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج متفق ہوئے ہوں۔

اُنھوں نے ضمانت کی درخواست کے دوران اس کی کھل کر مخالفت نہیں کی بلکہ صرف عدالت کو یہ بات کرانے پر ہی اکتفا کیا کہ بےشک عدالت ملزم پرویز مشرف کی ضمانت منظور کرلی جائے لیکن ضمانتی مچلکوں میں اتنی زیادہ رقم رکھ دی جائے تاکہ اگر سابق صدر بیرون ملک فرار بھی ہو جائیں تو ان مچلکوں کی مد میں جمع کروائی گئی رقم قوم کی فلاح وبہبود کے لیے استمال ہوسکے۔

اس طرح کی صورت حال اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں بھی دیکھنے کو ملی۔

جب پولیس نے ملزم پرویز مشرف کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے سے انکار کردیا اور متعقلہ عدالت کے جج نے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’چلو آپ لوگوں کی جان تو چھوٹی۔‘

اس مقدمے کے مدعی اسلم گھمن ایڈووکیٹ نے بھی ’قومی مفاد‘ کی خاطر اس مقدمے کی پیروی سے معذوری ظاہر کردی ہے۔

بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی کی ہلاکت کے بعد چوہدی اظہر اس اہم مقدمے کی پیروی کرر ہے ہیں۔

پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست سے متعلق پیروی کے لیے سرکاری وکیل کو سخت حفاظتی پہرے میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں لایا گیا اور عینی شاہدین کے مطابق سماعت کے دوران سرکاری وکیل کے چہرے پر پرشانی کے آثار نمایاں تھے۔

ممکن ہے اُن کی طرف سے دلائل نہ دیے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔

اس مقدمے کے سابق سرکاری وکیل مقتول چوہدری ذوالفقار علی نےسابق فوجی صدر پرویز مشرف کے بارے میں متعلقہ عدالت کو بتایا تھا کہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پرویز مشرف کو ملزم سے مجرم قرار دیا جاسکتا ہے۔

تاہم چوہدری ذوالفقار کے قتل کے واقعہ کہ بعد ایف آئی اے کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ میں ایسے شواہد کا ذکر تک نہیں ہے۔

اس کے علاوہ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم پرویز مشرف سے کی جانے والی تفتیش کا بھی ذکر ہے لیکن تفتیشی ٹیم اُس میں بھی سابق فوجی صدر کی بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدے میں اعانت مجرمانہ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

عینی شاہدین کے مطابق راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے جب پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی تو ملزم کے وکیل سے سرکاری وکیل زیادہ مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔

سرکاری وکیل نے یہ تک نہیں کہا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے اور نہ ہی ابھی تک اُنھیں بینظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش کرنے والی ٹیم سے ابھی تک ایسی کو ہدایات ملی ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل میں بھی بلوچستان پولیس کی ایک ٹیم ملزم پرویز مشرف سے تفتیش مکمل کرکے جاچکی ہے اور اُن کی طرف سے پرویز مشرف کو تحویل میں لینے یا اُن کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق متعقلہ عدالت میں کوئی درخواست نہیں دی گئی۔

جس کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ اس مقدمے میں بھی پرویز مشرف کی جانب سے جلد ہی ضمانت کی درخواست دائر کی جائے گی۔

اسی بارے میں