نیٹو کنٹینرز پر حملوں کا سلسلہ جاری

Image caption سید رحمان نیٹو کنٹینر کے ایک ڈرائیور تھے

سید رحمان اس کوشش میں تھے کہ انھیں کسی طرح کوئی دوسری نوکری مل جائے تو وہ پہلی والی نوکری چھوڑ دیں تاکہ ان کی زندگی محفوظ رہے لیکن شاید اس کی قسمت میں کچھ اور لکھا تھا۔

سید رحمان نیٹو کنٹینر کے ایک ڈرائیور تھے جس میں وہ افغانستان سے اتحادی افواج کے لیے سامان لایا کرتے تھے۔

ایک ماہ قبل وہ افغانستان سے نیٹو افواج کا سامان لیکر پشاور واپس آ رہے تھے کہ راستے میں شدت پسندوں نے ان کے کنٹینر کو نشانہ بنایا جس میں سید رحمان کا کنڈیکٹر (مددگار) موقع ہی پر ہلاک ہو گیا تاہم وہ اس واقعہ میں زخمی ہوئے۔

سید رحمان کی خوش قسمتی رہی کہ ان کی تو جان بچ گئی لیکن جان کھانے والی مالی پریشانیوں نے اب انہیں بچوں سمیت ہر طرف سے گرے میں لیا ہوا ہے۔

بائیس سالہ سید رحمان کو ٹانگ میں دو گولیاں لگی تھیں جس کی وجہ سے وہ آج کل بیساکھیوں کے سہارے چلتے ہیں۔ وہ اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک مہینے سے وہ چارپائی پر پڑے ہیں اور ان کا علاج بھی ہو رہا ہے لیکن ان کے کنٹینر کے مالک کی جانب سے انھیں کوئی مالی مدد نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا ’میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ ٹھیک ہونے کے بعد کسی بھی صورت میں کنٹینر چلانے کی ڈیوٹی نہیں کروں گا کیونکہ یہ سب خطروں کا کھیل ہے۔ اس مرتبہ توصرف ٹانگ میں گولی لگی اگلی بار یہ گولی سر میں بھی لگ سکتی ہے‘۔

افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے پہلے مرحلے کا آغاز ہونے پر اب تک ایک اندازے کے مطابق 300 کے قریب گاڑیوں پر مشتمل فوجی سازو سامان کراچی بندرگاہ منتقل کیا جا چکا ہے۔ لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے نیٹو سازو سامان لے جانے والی گاڑیوں پر خیبر ایجنسی اور پشاور کی حدود میں حملوں میں تیزی آ رہی ہے۔ اس عرصے میں چار نیٹو گاڑیوں کو نشانہ بنایا چکا ہے جس میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

Image caption نیٹو گاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں بلکہ ان حملوں کے باعث وسیع پیمانے پر مالی نقصانات بھی ہوئے ہیں

نیٹو گاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں بلکہ ان حملوں کے باعث وسیع پیمانے پر مالی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔

پشاور میں رنگ روڈ پر واقع نیٹو کنٹینرز کے ایک ٹرمینل کے مالک عمران خان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں پر حملوں کی وجہ سے ان کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’دو سال سے پورا کاروبار ٹھپ پڑا ہے نہ آغاز ہو رہا ہے اور نہ ہی اختتام، ہم لوگ درمیان میں پھنسے ہوئے ہیں، جو سرمایہ لگایا تھا وہ تقریباً ڈوب چکا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ جلد از جلد اس کاروبار کو ختم کر کے کوئی دوسرا کام شروع کیا جائے تاکہ اس گھاٹے کے کاروبار سے جان خلاصی ہو جائے۔

اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹو گاڑیوں پر حملے روکنا پاکستان اور افغانستان کے سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ضرور ہے تاہم ان واقعات سے امریکی اور اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے عمل پر بظاہر کوئی اثر نہیں پڑےگا۔

پشاور کے سینئیر صحافی ایم ریاض کے مطابق کئی سالوں سے دونوں ممالک کے لیے نیٹو گاڑیوں پر تواتر سے حملے مشکلات کا باعث ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ واقعات روکنا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ یہ گوریلا کارروائیاں ہیں جس سے پاکستان اور افغانستان پہلے ہی بری طرح متاثر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ابھی افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء میں پوری طرح تیزی نہیں آئی ہے۔ خدشہ ہے کہ جوں جوں اس عمل میں تیزی آئے گی، اتحادی افواج کے قافلوں پر حملوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں