بھگت سنگھ کا مقدمہ دوبارہ کھولنے پر لارجر بنچ کی سفارش

Image caption بھگت سنگھ کو 23 مارچ 1931 کو ان کے دو ساتھیوں راج گرو اور سکھ دیو کے ہمراہ لاہور کی سنیٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی

لاہور ہائی کورٹ نے انگریز حکومت کے خلاف آزادی کی جدوجہد کرنے والے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ کے خلاف مقدمے کو دوبارہ کھولنے اور ان کو بے گناہ قرار دینے کی درخواست پر کارروائی کے لیے فل بنچ تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔

ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے بھگت سنگھ کے بارے میں درخواست چیف جسٹس کو اس سفارش کے ساتھ بھجوائی ہے کہ اس کی سماعت کے لیے فل بنچ تشکیل دیا جائے۔

جمعہ کو سماعت کے دوران عدلیہ بچاؤ کمیٹی کے امتیاز رشید قریشی کے وکیل نے استدعا کی کہ بھگت سنگھ کے بارے میں درخواست کی نوعیت بہت اہم ہے اس لیے اس کی سماعت کے لیے فل بنچ تشکیل دیا جائے۔

درخواست میں یہ کہا گیا کہ بھگت سنگھ حریت پسند تھے اور انھوں نے انگریزوں سے آزادی کے لیے جدوجہد کی۔

بھگت سنگھ کو 23 مارچ 1931 کو ان کے دو ساتھیوں راج گرو اور سکھ دیو کے ہمراہ لاہور کی سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ ان کو پہلے عمر قید کی سزا سنائی گئی جسے بعد میں سزائے موت میں تبدیل کردیا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بھگت سنگھ کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے لیے اس وقت کے گورنر پنجاب نے ایک ٹریبونل تشکیل دیا تھا جس کی معیاد چھ ماہ تھی لیکن ٹربیونل نے اپنی معیاد ختم ہونے سے چھ دن پہلے کام شروع کیا۔

درخواست میں یہ موقف اختیار کیا کہ بھگت سنگھ کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے ٹربیونل نے نہ تو سارے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور نہ ہی وکیل صفائی کا موقف سنا۔

عدالت کو بتایا کہ بھگت سنگھ کے بارے میں بانیِ پاکستان قائداعظم نے سینٹرل اسمبلی میں دو مرتبہ خراجِ عقیدت پیش کیا۔

درخواست گزار امتیاز رشید قریشی کے وکیل نے بتایا کہ بھگت سنگھ کے خلاف مقدمے کو دوبارہ کھول کر انھیں مقدمے سے بے گناہ قرار دیا جائے۔

شادمان کا فوارہ چوک لاہور کی سینٹرل جیل کا حصہ تھا، تاہم ساٹھ کی دہائی میں جیل کے اس حصے کو ختم کر دیا گیا تھا۔

سول سوسائٹی سمیت مختلف تنظیموں کا ایک عرصے سے مطالبہ رہا ہے کہ لاہور کے معروف علاقے شادمان میں فوارہ چوک کو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کیا جائے کیونکہ اسی جگہ پر انھیں پھانسی دی گئی تھی۔

لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے شادمان چوک کو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم مذہبی تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے یہ بات کھٹائی میں پڑ گئی ہے۔

اسی بارے میں