’ڈرون حملے جاری رہے تو نئی حکومت کے لیے مسئلہ ہو گا‘

پاکستانی حکومت نے صدر اوباما کی تقریر کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ ڈرون کے استعمال پر نظرِثانی کریں گے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں سے اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعے کے روز پاکستان کے وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا حکومتِ پاکستان کی مسلسل پالیسی رہی ہے کہ ڈرون حملے نقصان دہ ہیں، ان میں بے گناہ لوگوں کی زندگیاں ضائع ہوتی ہیں اور یہ قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

پاکستان کا بھی طویل عرصے سے موقف ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوجیوں نے بھاری نقصان اٹھایا ہے اور صدر اوباما کی طرف سے پاکستانی عوام، خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کا جو اعتراف کیا گیا ہے ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ نواز کی جانب سے بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نواز لیگ کو اس بات سے مایوسی ہوئی ہے کہ صدر اوباما نے یہ نہیں کہا کہ وہ ڈرون حملوں کے سلسلے میں پاکستان حکومت سے مشاورت کریں گے۔

نواز لیگ کے مطابق امریکہ کو پاکستانی پارلیمان کی مرضی اور ملک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔

جماعت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ڈرون حملے جاری رہیں گے جو کہ نئی پاکستانی حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہو گا۔

واضح رہے کہ صدر اوباما نے جمعرات کو واشنگٹن کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں قومی سلامتی کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’صرف طاقت کا استعمال ہی ہمیں محفوظ نہیں بنا سکتا۔‘ پاکستان نے اس بیان کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔

تاہم صدر اوباما نے جمعرات کے روز اپنی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ڈرون حملے جاری رکھیں گے اور یہ کہ امریکہ منصفانہ جنگ لڑ رہا ہے۔

پاکستان میں ڈرون حملے بہت متنازع ہیں، اور یہاں حکومت اور فوج پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ یا تو ڈرون حملوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں یا ان کی خفیہ اجازت دے دیتے ہیں۔

گذشتہ برس پیو کے ایک سروے کے مطابق 74 فیصد پاکستانی امریکہ کو ’دشمن‘ سمجھتے ہیں، جس کی بڑی وجہ ڈرون حملے ہیں۔

بعض اندازوں کے مطابق پاکستان میں سے سے زیادہ حملے صدر اوباما کے دور میں 2010 میں کیے گئے جب ایک سو سے زیادہ ڈرون حملے ہوئے تھے۔ تاہم رواں سال ڈرون حملوں کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اسی بارے میں