بھارتی جیلوں میں ساڑھے چار سو سے زیادہ پاکستانی قید

  • 27 مئ 2013
Image caption بھارت کی مختلف جیلوں میں ساڑھے چار سو سے زیادہ پاکستانی قید ہیں

پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی مختلف جیلوں میں ساڑھے چار سو سے زیادہ پاکستانی قید ہیں جنہیں مختلف مقدمات کا سامنا ہے تاہم ان میں سے صرف تیس قیدیوں کو پاکستانی ہائی کمیشن تک رسائی حاصل ہے۔

اطلاعات کے مطابق متعدد قیدی سزا پوری ہونے کے باوجود بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔

پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں خارجہ اُمور سے متعلق ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ 364 پاکستانی مختلف مقدمات میں بھارتی جیلوں میں قید ہیں جبکہ اس کے علاوہ 105 پاکستانی ماہی گیر بھی بھارتی جیلوں میں زندگی گُزار رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ 30 قیدی ایسے ہیں جو کہ اپنی سزا پوری کرنے کے باوجود طویل عرصے سے بھارتی جیلوں میں قید ہیں اور اُن کی رہائی کے لیے پاکستانی حکام نے بھارتی حکام کے ساتھ رابطہ کیا ہے لیکن ابھی تک بھارت سے کوئی مثبت جواب نہیں ملاسکا۔ایڈیشنل سیکرٹری نے ان قیدیوں کی جرم کی نوعیت نہیں بتائی۔

کمیٹی نے ان قیدیوں کی حالتِ زار کے بارے میں بھی پوچھا تاہم اس ضمن میں وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا تھا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کو قیدیوں تک رسائی کے بعد اُن کی صحت کی معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جن پاکستانی قیدیوں کو قونصل تک رسائی نہیں ملی ہے اُن کے بارے میں بھارتی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے پاکستانی قیدی کو جانتے ہیں جو اپنی سزا تو پوری کرچکے ہیں لیکن اُن کے پاس پاکستانی پاسپورٹ نہیں ہے اس لیے وہ اپنے وطن واپس نہیں آسکتے۔

قائمہ کمیٹی کے رکن فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ قیدیوں کا مسئلہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں اگر کوئی بھارتی قیدی مارا جاتا ہے تو فوری طور پر اس کا ردعمل بھارت میں بھی دیکھا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کو یہ مسئلہ بہتر انداز میں حل کرنا چاہیے ۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت خارجہ سے پاکستنان میں موجود بھارتی قیدیوں کی تفصیلات بھی مانگی جو اُنہوں نے فراہم نہیں کیں اور کہا کہ وہ وزارت داخلہ سے اس کی تفصیلات حاصل کرکے قائمہ کمیٹی کو بتائیں گے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو کی ہدایت پر پاکستان نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت چالیس سے زائد ماہی گیروں کو رہا کیا ہے۔

اسی بارے میں