بلوچستان: تین مسخ شدہ لاشیں برآمد

Image caption گیارہ مئی کے بعد سے ایک درجن سے زائد افراد کی تشدد زدہ لاشیں صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوئی ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تشددہ زدہ مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور منگل کو ضلع کیچ سے مزید تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ضلع کیچ کے صدر مقام تربت میں ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لاشیں تربت شہر کے مختلف علاقوں سےملی ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق ان میں سے دو افراد کی لاشیں تربت شہر کے قریب سے برآمد کی گئیں جبکہ ایک لاش پسنی روڈ سے برآمد کی گئی۔

پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ دو افراد کی لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی جبکہ ایک لاش کی شناخت ہوئی ہے جو کہ طارق نامی ایک شخص کی ہے جن کا تعلق بلوچستان کے علاقے پنجگور سے ہے۔

گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی میں تیزی آئی ہے اور گیارہ مئی کے بعد

سے ایک درجن سے زائد افراد کی تشدد زدہ لاشیں صوبے کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوئی ہیں۔

دریں اثناء تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی اور بعض علاقوں میں مبینہ آپریشن کے خلاف سخت گیر موقف رکھنے والی بلوچ قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر منگل کو بھی قلات اور مکران ڈویژن کے اکثرعلاقوں کے علاوہ بعض دیگر علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

قوم پرست جماعتوں کی جانب سے 28 مئی کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں ایٹمی دھماکوں کی مناسبت سے یوم سیاہ کی بھی کال دی گئی تھی۔

ہڑتال اور یوم سیاہ کی کال بلوچ نیشنل فرنٹ، بلوچ نیشنل وائس اور بلوچ لبریشن سٹرگل سمیت دیگر سخت موقف رکھنے والی تنظیموں نے دی تھی ۔

ان علاقوں میں گزشتہ تین روز سے مسلسل ہڑتال کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

اسی بارے میں