’الیکشن لڑنے نکلا تو جیب میں 100 روپے تھے‘

Image caption اکتالیس سالہ فرید خان کا تعلق بنیادی طور پر اورکزئی ایجنسی سے ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں بیشتر حلقوں سے نئے چہرے منتخب ہو کر اسمبلی میں آئے ہیں اور جنوبی ضلع ہنگو میں پی کے بیالیس سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی فرید خان بھی ایک ایسے ہی ایم پی اے ہیں جن کا اس سے پہلے کوئی سیاسی پس منظر تھا اور نہ وہ سیاست کے داؤ پیچ سے واقف ہیں۔

انہوں نے گیارہ مئی کے عام انتخاب میں پہلی مرتبہ حصہ لے کر سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ آزاد حیثیت میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔

فرید خان نے ہنگو سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مضبوط ترین امیدوار عتیق الرحمان کو شکست دی جو اس سے پہلے دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ ان کے والد غنی الرحمان بھی تین مرتبہ ہنگو سے ایم پی اے منتخب ہوئے اور دو مرتبہ صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔

اکتالیس سالہ فرید خان کا تعلق بنیادی طور پر اورکزئی ایجنسی سے ہے لیکن ان کا خاندان کئی عشروں سے مستقل طور پر ہنگو میں رہائش پذیر ہے۔ وہ پشاور یونیورسٹی میں دو سال تک بی اے آنرز فائن آرٹس کے طالب علم بھی رہ چکے ہیں لیکن بعض مجبوریوں کے باعث وہ تعلیمی سلسلہ مکمل نہیں کر سکے لیکن ایک بہترین مقرر ثابت ہوئے۔

فرید خان بچپن سے علاقے میں فلاحی کاموں میں دلچسپی لیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کا عوام سے ایک مضبوط رابط قائم رہا اور بعد میں وہ اسی بنیاد پر ضلع میں ایک رہنما کے طور پر بھی سامنے آئے۔ وہ لوگوں کے مسائل بغیر کسی مالی فائدہ کے حل کرنے کے حوالے سے پورے علاقے میں شہرت رکھتے ہیں۔

فرید خان بنیادی طور پر ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کا کوئی کاروبار نہیں بلکہ وہ خود کو بے روزگار افراد میں شمار کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے گھر کے تمام اخراجات بھی ان کے بھائی برداشت کرتے ہیں۔

فرید خان کا کہنا ہے کہ جب وہ ریٹرنگ آفیسر کے دفتر میں کاغذات نامزدگی داخل کرنے گئے تو اس وقت ان کے جیب میں صرف سو روپے تھے جو اس وقت ان کا کل اثاثہ تھا۔

ان کے مطابق انتخابی مہم کے زیادہ تر اخراجات بھی ان کے دوستوں اور رشتہ دار نے برداشت کیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے کل اثاثے وہ چند مرلے آبائی زمین ہے جو ان کی اپنی نہیں بلکہ باپ دادا سے وراثت میں ملی ہے۔

فرید خان نے کہا کہ’ان کے اصل اثاثے ان کے حلقے کے عوام اور وہ دوست احباب ہیں جو انہیں ہر مشکل وقت میں سپورٹ کرتے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے کے بعد انہیں مختلف پارٹیوں میں شمولیت پر کروڑوں روپے کی پیشکش ہوئی لیکن تمام آفرز کو ٹھکرا کر وہ غیر مشروط طور پر تحریک انصاف میں شامل ہوئِے۔

اسی بارے میں