کیا یہ بھی کانِ نمک میں نمک ہو جائیں گے؟

پلاسٹک کی چپل پہننے کی وجہ ان کے پاؤں پر لگا زخم تھا یا ان کی عاجزانہ طبیعت لیکن ایک بات تو سب کو معلوم تھی کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا رکن بننے والے ایک رکن جتنے کم پیسے خرچ کر کے اسمبلی کی نشست جیتے ہیں اس سے زیادہ رقم تو ایک خاتون رکن نے پہلے اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے سنگار اور تیاری پر ہی لگا دیے تھے۔

یہ دونوں چیزیں یعنی تحریکِ انصاف کے نو منتخب رکن اسمبلی کی پلاسٹک کی چپل اور اس خاتون کا میک اپ اور مہنگا لباس بار بار لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہا تھا۔

ایک جانب صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے عمل کا پہلا دن اور دوسری جانب وزیرستان میں ہونے والا ڈرون حملہ، اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر ایوان میں گیلریوں میں موجود ہر کسی کے لب پر ایک ہی سوال تھا کیا کہ ڈرون حملوں کی مخالفت اورامن و امان کی بہتری کے نام پر ووٹ لینے والوں کا امتحان پہلے ہی روز شروع ہو گیا ہے؟

یہ سوال کرنے والے اس کا جواب بھی خود ہی دے رہے تھے کہ مرکز میں حکومت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف سے ان دونوں کاموں کی توقع نہ رکھی جائے اوراگر وہ صرف صوبے میں کرپشن سے پاک یعنی صاف اور شفاف حکومت کے قیام میں ہی کامیاب ہوگئے تویہ ان کا وہ کارنامہ ہوگا اور یہی وہ عمل ہوگا جس پر عام لوگ ان کے بڑے وعدوں کے پورا نہ ہونے پرانہیں معاف کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔

توقع تو یہی کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف کو اپنے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے جو ایک صوبہ مل چکا ہے وہ اس کو پا کر کافی جوش میں ہوگی اور پہلے دن اس کی مرکزی قیادت کے کچھ لوگ ضرور خیبرپختونخوا اسمبلی میں موجود ہوں گے لیکن وہاں تو کوئی بھی نہیں آیا۔

تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکن اور منتخب اراکین کے رشتے دار صبح سے ہی اسمبلی کی گیلریوں پر قابض تھے جو وہاں بننے والی اپنی تصویروں کوفیس بک اور انٹرنیٹ کی دیگر سائٹس پر اپ لوڈ کر رہے تھے اور اس کام وہ اکیلے نہیں تھے بلکہ کافی نامی گرامی منتخب اراکین اور ان کے رشتے دار بھی اس میں شریک تھے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اس اجلاس کا ایک اور منظر بھی کافی دلکش تھا جب حاضری رجسٹرمیں دستخط کرنے جانے والے اراکین تحریک انصاف کے نامزد وزیراعلی اور سپیکر اسمبلی سے ہاتھ ملانے کی ’سعادت‘ حاصل کرتے جا رہے تھے جنہیں کچہ عرصہ قبل تک وہ خود یا ان کی جماعتیں کبھی سنجیدہ جماعت کے طور پر تسلیم کرنے کو تیار ہی نہ تھے۔

متوسط اورغریب طبقے کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تحریک انصاف کے کاندھے پر سوار ہو کر اسمبلیوں میں تو پہنچ گئی لیکن اس تعداد کودیکھتے ہوئے ایک اور بات بھی محسوس ہو رہی تھی کہ تحریک انصاف کی موجودہ منتخب ٹیم میں ناتجربہ کاروں کی بہتات پارٹی کی نمائندہ اکثریت ہے یا کچھ نوجوان دوستوں کی بیٹھک۔

صوبے کی نئی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف بہت سے غریبوں کو لے کر اسمبلی میں آئی ہے لیکن اتنی سادگی کے ساتھ اس اسمبلی میں پہنچنے والے یہ پہلے لوگ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی غریب افراد منتخب ہو کر اسمبلی میں آتے رہے ہیں۔

سنہ 2002 میں اسی ہال میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل یعنی ایم ایم اے کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے سادہ اور غریب ارکان منتخب ہو کر آئے تھے کہ اسمبلیوں میں امیروں کو دیکھنے کے عادی افراد نے ان کو دیکھ کر منہ میں انگلیاں داب لی تھیں کہ یہ کون آ گیا؟۔

یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ کچھ عرصے بعد ہی وہ غریب، غریب نہ رہے اور ان کی مالی حالت بدل گئی، ان میں سے کچھ اب دوبارہ اسی اسمبلی میں آئے ہیں لیکن وہ سنہ 2002 کی طرح سائیکلوں، رکشوں اور تانگوں پر نہیں اپنی گاڑیوں میں آئے تھے۔

کہنے والوں کا کہنا تھا کہ لوگ نمک کی کان میں نمک کا حصہ بن جانے والوں پر توجہ نہیں دیتے اور ان میں ایسا کیا ہے کہ ان کو دیکھا جائے کیونکہ یہ اراکین اب اپنی سابقہ کلاس کے لوگوں کی بات کرنے کی بجائے ان کاموں پر توجہ دیتے ہیں جن کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو نہیں ملتا۔

اسی بارے میں