بلوچستان اسمبلی کا اجلاس یکم جون کو طلب

Image caption بلوچستان اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 66 ہے

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات کے بعد صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس یکم جون کو طلب کر لیا گیا ہے۔اس اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کے نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے۔

اگرچہ یکم جون کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس تو طلب کیا گیا لیکن تا حال اس بات کا اعلان نہیں ہوا کہ بلوچستان کے آئندہ وزیر اعلیٰ کون ہوں گے۔

اسی طرح اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کے لئے بھی ناموں کا اعلان نہیں ہوا ہے۔

بلوچستان کے آئندہ کے وزیر اعلیٰ کے بارے میں حتمی فیصلہ مسلم لیگ (ن ) کے سربراہ میاں نواز شریف نے لاہور میں کرنا ہے اور اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے نو منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کولاہور میں طلب کیا گیا ہے۔

صحافی محمد کاظم کے مطابق بلوچستان میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی تین بڑی جماعتوں مسلم لیگ(ن)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے درمیان حکومت سازی پر اتفاق ہوا ہے۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بی بی سی کو بتایا ’ تینوں جماعتوں کے مابین نہ صرف حکومت سازی پر اتفاق ہوا ہے بلکہ اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ اگر کسی اور جماعت کو مخلوط حکومت میں شامل کرنا ہے تو اس کا بھی انہی تینوں جماعتوں نے فیصلہ کرنا ہوگا‘۔

بلوچستان اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 65 ہے۔بلوچستان میں سادہ اکثریت سے حکومت سازی کے لیے33 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے۔

جن تین جماعتوں میں حکومت سازی پر اتفاق ہوا ہے ان میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 20، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 14اور نیشنل پارٹی کے 11 ارکان ہیں۔

ان جماعتوں نے بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کا اختیار میاں نواز شریف کو دیا ہے۔

اگرچہ وزیرِاعلیٰ نامزد کرنے کا اختیار میاں نواز شریف کو دیا گیا ہے تاہم پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت کو یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ نامزد کیا جائے۔

جہاں تک مسلم لیگ (ن) بلوچستان کا تعلق ہے وہ اس بات کے حق میں نہیں کہ وزارت اعلیٰ کا عہدہ کسی اور جماعت کو دیا جائے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس وجہ سے بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) سے وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کے حصول کے لیے جو اراکین کوشش کر رہے ہیں ان میں پارٹی کے صوبائی صدر نواب ثناء اللہ زہری اور نوابزادہ جنگیز مری شامل ہیں۔تا ہم ان کے علاوہ پارٹی سے تین اور اراکین بھی وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے ’اگر میاں نواز شریف نے وزارتِ اعلیٰ کے لیے مسلم لیگ (ن) سے کسی امیدوار کو نامزد نہیں کیا تو پھر وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے نام کا قرعہ نکلنے کے قوی امکانات ہیں‘۔

اسی بارے میں