پرویز خٹک نے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھا لیا

Image caption خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریکِ انصاف 55 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے پرویز خٹک نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس میں ہوئی جہاں پرویز خٹک سے خیبر پختونخوا کے گورنر اینجینئر شوکت اللہ نے ان کے عہدے کا حلف لیا۔

اس سے قبل نو منتخب وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت اطلاعات تک رسائی کے حق کے قانون پر عملدرآمد کرے گی۔

انہوں نے یہ بات وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں اپنے پہلے میں کہی تھی۔

انہوں نے کہا اطلاعات تک رسائی کے حق کا قانون موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ’ہماری حکومت سب اطلاعات کو ویب سائٹ پر ڈالے گی تاکہ عوام جان سکیں کہ کتنی رقم کس منصوبے پر صرف ہو رہی ہے۔ لوگ جان سکیں کہ تعلیم کے شعبے پر کتنی رقم لگائی جا رہی ہے یا کسی اور شعبے پر کتنی رقم لگ رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم سب کچھ صاف اور شفاف رکھیں گے اور حکومت صوبائی مالیاتی کمیشن کو فعال بنائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ ضلعی مالیاتی کمیشن بھی بنائیں گے۔

انہوں نے نومنتخب نمائندگان اور سرکاری افسران سے کہا کہ وہ اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات جلد سے جلد حکومت کو مہیا کریں۔

’یہ تفصیلات ہم ویب سائٹ پر ڈالیں گے تاکہ لوگ جان سکیں کہ ہم کل کیا تھے اور آج کیا ہیں۔‘

انہوں نے کہا کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے اور تھانہ کلچر کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے ۔

پرویزخٹک نے کہاکہ امن وامان کی صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی حکومت ان چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشاورت سے ٹھوس اقدامات کرے گی ۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ہم صوبے کے عوام کومایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو موجودہ اور ماضی کی حکومتوں میں فرق نظر آئے گا اور صوبے میں عدل و انصاف قائم کر کے بد عنوانی کی مکمل خاتمہ کر یں گے ۔

خیبر پختو نخوا کے نئے وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ صوبے سے دہشتگردی کا خاتمہ کر یں گے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے پرویز خٹک صوبہ خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے طور پر منتخب ہو ئے۔

صوبائی اسمبلی میں وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے جمعے کو ہونے والے ووٹنگ میں وہ 84 ووٹوں کے ساتھ کامیاب امیدوار قرار دیے گئے۔

جماعتِ اسلامی، قومی وطن پارٹی، عوامی جمہوری اتحاد اور آزاد اراکین نے پاکستان تحریک انصاف کے پرویز خٹک کی حمایت کی۔

صوبائی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے دوسرے امیدوار مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا لطف الرحمان کو 37 ووٹ ملے۔

مسلم لیگ نواز کی طرف سے وجیہہ الزمان کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن وہ مولانا لطف الرّحمان کے حق میں دستبرار ہو گئے تھے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریکِ انصاف 55 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان مسلم لیگ ن نے 17 ، 17 نشستیں حاصل کی ہیں۔

اس کے علاوہ قومی وطن پارٹی کے اس ایوان میں 10 ، جماعت اسلامی کے 8 ، عوامی نیشنل پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد کے 5، 5، پاکستان پیپلز پارٹی کے 4، آل پاکستان مسلم لیگ کا 1 اور 2 آزاد امیدوار ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو صوبائی اسمبلی میں تحریکِ انصاف کے اسد قیصر اور امتیاز قریشی بلامقابلہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے جنہوں نے جمعرات ہو ہی اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا تھا۔

سپیکر کے عہدے کے لیے اسد قیصر اور امتیاز قریشی کا مقابلہ جمیعت علمائے اسلام کے منور خان اور ارباب حیات اکبر سے تھا لیکن تمام پارلیمانی جماعتوں نے اتفاقِ رائے سے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کیا۔

خیال رہے کہ صوبہ سندھ میں جمعرات کو وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے سید قائم علی شاہ کو منتخب کر لیا گیا تھا جنہوں نے جمعرات کی رات کو ہی اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا تھا۔

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے آغا سراج درانی 87 ووٹ جبکہ شہلا رضا 86 ووٹ لے کر سپیکر اور ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے اور انہوں نے اپنے عہدوں کا حلف جمعرات کو ہی اٹھا لیا تھا۔

اسی بارے میں