بلوچستان:مزید دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد

فائل فوٹو،
Image caption بلوچستان میں لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعات اکثر پیش آتے ہیں اور اس کے خلاف متعدد بار احتجاج ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں سے مزید دو نوجوانوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

دریں اثناء منگل کو نوشکی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ۔

دونوں لاشوں میں سے ایک کراچی سے متصل بلوچ علاقے حب سے برآمد ہوئی۔

حب میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر انہوں نے لاش کو مقامی ہسپتال پہنچایا دیا ہے۔

ہسپتال میں لاش کی شناخت ظہیرانور بلوچ کے نام سے ہوئی جس کا تعلق بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی علاقے پنجگور سے تھا۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مطابق ظہیر انور بلوچ پارٹی کے رہنما انور بلوچ کا بیٹا تھا۔

پارٹی کے مطابق ظہیر انور کو24 اپریل کو دو دیگر افراد کے ساتھ لاپتہ ہو گئے تھے جن میں سے اب تک دو کی لاشیں بر آمد ہوئی ہیں۔

دوسری لاش قلات کے علاقے منگچر سے برآمد ہوئی۔

مقامی حکام کے مطابق لاش کی شناخت امان اللہ مینگل کے نام سے ہوئی جنہیں 3 روز قبل نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔

امان اللہ کی لاش کی برآمد ہونے کے خلاف ان کے لواحقین نے کوئٹہ کراچی ہائی وے کو بطور احتجاج بند کیا۔

کوئٹہ سے مشرق میں نوشکی کے علاقے میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

مقامی پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ایک دکان پر فائرنگ کی جس سے سکیورٹی فورسز کے دو افراد ہلاک ہو گئے۔

دوسری جانب رکھنی کے علاقے میں نامعلوم افراد نے بجلی کے ایک ٹاور کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے ٹاور کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے ٹاور تباہ ہوگیا۔

ٹاور تباہ ہونے سے بارکھان میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ٹاور اڑانے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں