ہنگو شہر میں کرفیو بدستور نافذ

Image caption فرید خان پیر کو فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں تحریک انصاف کے رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی فرید خان کی ہلاکت کے بعد شہر میں بدستور کرفیو نافد ہے۔

دریں اثناء ہنگو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے باپ، بیٹا ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہنگو پولیس کے سربراہ سجاد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ممبر صوبائی اسمعمبلی فرید خان کے ہلاکت کے بعد ہنگو شہر میں حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس،ایف سی اور سکاؤٹس فورس کے اہلکاروں نے شہر اور مضافاتی علاقوں میں گشت شروع کر دیا ہے جبکہ شہر میں کرفیو بدستور نفاذ ہے لیکن مضافاتی علاقوں سے کرفیو ہٹا دیاگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فرید خان کے قتل کے الزام میں شدت پسند طالبان کمانڈر مُفتی حامد سمیت ان کے چار ساتھیوں کوگرفتار کیا گیا ہے جنہیں تحقیقات کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق اہلکار کے کہنا تھا کہ ہنگو کے علاقے سپین خاورائی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عبدالعزیز اور ان کے جواں سالہ بیٹے کی ہلاکت بھی موجودہ حالت کا حصہ ہیں۔

اہلکار کے مطابق ہنگو میں اکثر اوقات ایسے واقعات کے بعد قتل و غارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

یادر ہے کہ پیر کو ہنگو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تحریک انصاف کے رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی فرید خان ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد ہنگو شہر میں مشتعل افراد کی توڑ پھوڑ کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا جبکہ فرید خان کے حامیوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا تھا۔

دوسری جانب شدت پسند کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مطابق ان کا اس واقع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فرید خان نے گیارہ مئی کے عام انتخاب میں پہلی مرتبہ حصہ لے کر سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا تھا۔

آزاد حیثیت میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔

فرید خان نے ہنگو سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مضبوط ترین امیدوار عتیق الرحمان کو شکست دی جو اس سے پہلے دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

فرید خان بچپن سے علاقے میں فلاحی کاموں میں دلچسپی لیتے رہے جس کی وجہ سے ان کا عوام سے ایک مضبوط رابط قائم رہا اور بعد میں وہ اسی بنیاد پر ضلع میں ایک رہنما کے طور پر بھی سامنے آئے۔ وہ لوگوں کے مسائل بغیر کسی مالی فائدے کے حل کرنے کے حوالے سے پورے علاقے میں شہرت رکھتے تھے۔

صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں کاغذات نامزدگی داخل کرانے گئے تو اس وقت ان کے جیب میں صرف سو روپے تھے جو اس وقت ان کا کل اثاثہ تھا۔

ان کے مطابق انتخابی مہم کے زیادہ تر اخراجات بھی ان کے دوستوں اور رشتہ دار نے برداشت کیے۔

اسی بارے میں