نواز شریف، جاوید ہاشمی، امین فہیم وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں شامل

Image caption جاوید ہاشمی تحریکِ انصاف کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں

مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی اور پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔

قومی اسمبلی کے ارکان بدھ کے روز ملک کے نئے وزیرِاعظم کا انتخاب کریں گے۔ مسلم لیگ کو اسمبلی میں برتری حاصل ہے اور توقع ہے کہ نواز شریف بھاری اکثریت سے وزیرِ اعظم منتخب ہو جائیں گے۔

گذشتہ روز نواز شریف کی جماعت ہی کے ایاز صادق 258 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے 19 ویں سپیکر منتخب ہوئے تھے جب کہ ان کے مقابلے پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شہر یار آفریدی نے 31 جبکہ ایم کیو ایم کے امید وار اقبال قادری نے 23 ووٹ حاصل کیے تھے۔

نواز شریف کے وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی کے وقت ان کے سات تجویز کنندگان اور سات تائید کنندگان تھے۔ تجویز کنندگان میں ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف اور دوسرے ارکان شامل تھے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف خود مصروفیات کی بنا پر کاغذات جمع کروانے نہیں آ سکے۔

اس سے قبل تحریکِ انصاف کے جاوید ہاشمی نے جب کاغذات جمع کروائے تو عارف علوی تجویز کنندہ اور غلام سرور تائید کنندہ تھے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق انھوں نے سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر میں اپنے کاغذات جمع کروائے ہیں۔

اس موقعے پر مسلم لیگ ن کے رہنما اسحٰق ڈار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف متفقہ وزیرِاعظم منتخب ہو جاتے تو اچھا تھا لیکن اگر کوئی جماعت مقابلے پر امیدوار لانا چاہتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے نواز شریف کی حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے جس کے لیے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔

اسحٰق ڈار نے اس موقعے پر یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت کو پیپلز پارٹی نے بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ بھی نواز شریف کی حمایت کرے گی۔ اس موقعے پر ایک صحافی نے کہا کہ پیپلز پارٹی تو مخدوم امین فہیم کو امیدوار کھڑا کر رہی ہے، تو اسحٰق ڈار نے کہا کہ یہی جمہوریت ہے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ریڈیو پاکستان کی خبر کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کا متفقہ امیدوار بنانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

اسحٰق ڈار نے ان تمام جماعتوں سے نواز شریف کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کی استدعا کی جو اپنے امیدوار کھڑے نہیں کر رہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے اور مسلم لیگ ن کی حکومت ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔

اسی بارے میں