طالبان سے مذاکرات اور ولی الرحمان کی ہلاکت

Image caption طالبان سے بات چیت سے متعلق پاکستان میں عمومی عوامی رائے کوئی زیادہ پرامید نہیں

طالبان سے مذاکرات کی پیشکش اور اس پر نئی حکومت کا ردعمل مسلسل زیر بحث ہے۔

اس مسئلے کے تمام فریق بظاہر بات چیت شروع کرنے کے لیے اپنے اپنے فارمولے پیش کر رہے ہیں جس سے وضاحت کی بجائے ابہام پیدا ہو رہا ہے۔ لیکن ایک بات قدرے واضح ہو کر سامنے آ رہی ہے اور وہ ہے کہ عمومی طور پر مذاکرات کو بےمعنی سمجھا جانے لگا ہے۔

مسلم لیگ نون کے نامزد وزیر اعظم نواز شریف نے تو پہلے دن سے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔

خیال ہے کہ نواز شریف باقاعدہ منتخب ہونے کے بعد پالیسی بیان میں مستقبل میں رابطوں پر روشنی ڈالیں گے لیکن فی الحال امریکی ڈرون حملے میں تحریک طالبان کے نائب امیر ولی الرحمان کی ہلاکت نے مذاکرات کے لیے پیدا ہونے والی فضا کو مکدر کر دیا ہے۔

بعض لوگوں کے مطابق چونکہ امریکہ بھی اہم فریق ہے لہٰذا اس نے مذاکرات کی بابت اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر دی ہے۔

تاہم شدت پسندی سے متعلق کئی کتابوں کے مصنف زاہد حسین اس سے متفق نہیں۔

’میں نہیں سمجھتا کہ ولی الرحمان کو جان بوجھ کر اس لیے نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ مذاکرات کرنا چاہتے تھے۔ بعض صحافی انہیں معتدل کمانڈر کے طور پر پیش کر رہے تھے جوکہ میرے خیال میں درست نہیں۔ ڈرون حملہ ایک دن میں نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کافی دن امریکی کام کرتے ہیں۔‘

تاہم پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن کا گزشتہ دنوں صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ مذاکرات حکومت پاکستان کا استحقاق ہے البتہ مذاکرات کے لیے طے کی جانے والی شرائط کو دیکھ کر تحفظات سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے گزشتہ دنوں دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا تھا کہ شدت پسندوں سے مذاکرات کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور آئین پاکستان کو تسلیم کر لیں۔ طالبان کی پیشکش پر انہوں نے کوئی براہ راست ردعمل تو ظاہر نہیں کیا لیکن ایک تاثر ہے کہ فوج بھی اب گفتگو میں کوئی فائدہ نہیں دیکھتی اسی وجہ سے سرد مہری۔

جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ثالثی سے انکار کی ایک وجہ فوج کی عدم دلچسپی ہی بتائی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ کسی ایسی بات کا حصہ نہیں بننا چاہتے جس کی کوئی بنیاد نہیں۔

’یہ آپ کے ڈیسک پر بنی ہوئی خبریں ہیں۔ اتنا حساس معاملہ اسے ہم اتنی غیرسنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ خواہش نہیں رکھتی اور حکومت ابھی بنی نہیں۔ ایسی کسی بات سے مجھے نہ باندھا جائے۔‘

لیکن اس کے مقابلے میں سیاسی قیادت مختلف نوعیت کے بیانات دیتی رہی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ دنوں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہیں ان شدت پسند گروہوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جو مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔

صحافی حسن خان کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاستدانوں کا مسئلہ ہی یہ رہا ہے کہ وہ اب تک واضح قومی پالیسی لائے ہی نہیں۔

’ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہم کو متفقہ قومی پالیسی ہی نہیں لا سکے ہیں۔‘

آخر ایسا کیا ہے جو سیاستدانوں کو دو ٹوک بات سے روک رہا ہے۔

سینیّر تجزیہ نگار زاہد حسین کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ شدت پسندوں کا خوف ہے۔ ’جس طرح سے انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کو نشانہ بنایا کوئی واضح بات ہی نہیں کرنا چاہ رہا۔‘

مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کو بطور مذاکرات کار کے پیش کیا جاتا ہے لیکن حسن خان کا کہنا ہے کہ شاید یہ ان کے بس کی بات نہیں۔

’اگرچہ دونوں ایک ماہ سے اپنے آپ کو ثالث کے طور پر پیش کر رہے ہیں لیکن میرے خیال میں اس بابت نہ تو کوئی پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہی رابطے۔‘

زاہد حسین ان صحافیوں میں شامل ہیں جو اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ماضی کو مدنظر رکھیں تو مذاکرات کا کوئی فائد نہیں۔

’تیس کے قریب معاہدے ہو چکے ہیں اور ہمیں معلوم ہے ان میں سے اکثر کا نتیجہ بلآخر کیا نکلا۔‘

بات چیت سے متعلق پاکستان میں عمومی عوامی رائے کوئی زیادہ پرامید نہیں۔

بی بی سی کے ایک سامع ماز محمد بزدار کا کہنا تھا کہ’مذاکرات کی بات کرنے والی سیاسی جماعتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ دہشت گرد کسی کے نہیں ہوتے۔ آج افسوس کی بات ہے کہ سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہی ہیں۔‘

جہاں امن کی خواہاں عوام کبھی مذاکرات اور کبھی جنگ کی باتوں سے اکتا چکے ہیں وہاں ملکی سیاسی و فوجی قیادت کو ایک پالیسی اپنانے کی بہت ضرورت ہے۔

اسی بارے میں