انسانی حقوق پر سمجھوتا نہ کریں: ایمنسٹی

Image caption طالبان کے ساتھ پاکستانی حکومت کے مذاکرات اب تک ناکام رہے ہیں

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی نومنتخب حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان یا دوسرے مسلح گروہوں کے ساتھ ممکنہ بات چیت میں انسانی حقوق کے احترام کے معاملے پر سمجھوتا نہ کرے۔

تنظیم نے ایک بیان میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ نئی حکومت اپنی آئینی مدت کے دوران انسانی حقوق کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور اس کا آغاز پچھلے تین ماہ میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتخابات کے دوران تشدد کے واقعات کی تحقیقات سے کرے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ انتخابات کا اعلان ہونے کے وقت سے لے کر اب تک بظاہر سیاسی تشدد کی وارداتوں میں اب تک ڈیڑھ سو لوگ مارے گئے ہیں جن میں محض عام انتخابات کے دن 64 افراد ہلاک ہوئے۔

تنظیم کہتی ہے کہ تشدد کے ان واقعات کی مؤثر تحقیقات میں سرکاری حکام کی ناکامی اس بات کی افسوس ناک یاد دہانی ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کو اب بھی استثنیٰ یا چھوٹ حاصل ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے ساتھ بات چیت کرکے امن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے طالبان اور اس سے الحاق شدہ مسلح گروہوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے جن میں جنگی جرائم بھی شامل ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو ماضی میں طالبان کے ساتھ بات چیت میں حکام کی جانب سے کی جانے والی غلطیوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے اور یہ کہ پائیدار امن کا واحد راستا انسانی حقوق کے تحفظ کو بلاامتیاز نافذ کرنا ہے۔

اسی بارے میں