’شدت پسندوں کی بیرونی امداد روکیں گے‘

Image caption سفارت کار جارحانہ انداز میں معاشی سفارتی کاری پر توجہ دیں: وزیر اعظم میاں نواز شریف

میاں نواز شریف نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم کا عہدہ سنھبالنے کے بعد اپنے پہلے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے شدت پسند گروہوں کو بیرونی ممالک سے ملنے والی مالی امداد کو روکا جائے گا۔

میاں نواز شریف نے سفارت کاروں کے نام ایک خط میں اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت دہشتگردی خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور سکیورٹی فورسز سے مشاورت کے بعد ایک جامع پالیسی ترتیب دے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے بیرونی عوامل کو بھی سمجھنا ضروری ہے اور شدت پسندوں کو بیرونی ممالک سے ملنے والی مالی امداد کو روکا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے علاقائی اور عالمی برادری سے تعاون کی ضرورت ہے۔

میاں نواز شریف نے پاکستانی سفارت کاروں سےکہا ہے کہ وہ جارحانہ انداز میں معاشی سفارت کاری پر توجہ دیں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان سفارت خانوں کو ہدایت کی کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت اور دوسرے ممالک سے معاشی تعاون کے فروغ پر توجہ دیں۔

میاں نواز شریف نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ملکی طاقت کا انحصار پائیدار معاشی ترقی میں پنہاں ہے اور سفارت کارروں پر اس سلسلے میں اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان سفارت کاروں کو ہدایت کی کہ توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون کے مواقعوں کی نشاندہی کریں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین توجہ اپنے پڑوسیوں سے تعلقات پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک علاقے میں امن قائم نہیں گا ملک میں ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے افغانستان میں ایک مستحکم حکومت کی حمایت کے حوالے سے ایک متفقہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی بہتری کی بھی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے میاں نواز شریف نے کہا کہ ایسے معاملات جہاں دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات ہیں ان میں مزید استحکام پیدا کیا جائے اور جہاں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں وہ ان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے سعودی عرب، ترکی اور ایران سے اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب لاہور میں وزیراعظم نواز شریف توانائی کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔

وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی کابینہ میں متوقع وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف بھی توانائی کانفرنس میں شریک ہیں۔

دریں اثناءدفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے برطانیہ میں سفیر واجد شمس الحسن، متحدہ عرب امارات میں سفیر جمیل احمد خان اور مسقط میں پاکستانی سفیر کو عہدے چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں