وزیراعلیٰ بلوچستان کا انتخاب، مزید دو مسخ شدہ لاشیں برآمد

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ متفقہ طور پر وزیرِاعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔

نومنتخب وزیراعلیٰ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے ان سے حلف لیا اور اتوار کو ہی مزید دو افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان اسمبلی کا قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ میں تمام سیاسی جماعتوں، صوبے کی عوام اور تمام مسلح تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ آئیں میز پر بیٹھیں اور اپنی بات وہاں رکھیں، مجھے یقین ہے کہ بشمول پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت یکجا ہو گی تو ہم اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکال لیں گے‘۔

ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ’اگر وزیراعظم میاں نواز شریف اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے بلوچستان کے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی تو میں یقین دلاتا ہوں گے کہ ہم قبائلی عمائدین ،سیاسی لیڈرشب کو لے کر اپنے بھائیوں کے پاس جائیں گے اور ان کو کہیں گے کہ بلوچستان جل رہا ہے‘۔

صوبے میں مسخ شدہ لاشیں ملنے کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’مسخ شدہ لاشیں، ٹارگٹ کلنگ اور مذہبی شدت پسندی، اغواء برائے تاوان اور لوگوں کے نقل مکانی وہ مسائل ہیں جو میرے لیے اور اس ایوان کے لیے کوہ ہمالیہ سے زیادہ وزنی ہیں۔‘

نومنتخب وزیراعلیٰ نے صوبے میں بدعنوانی کے خاتمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ کے سیکریٹ فنڈ کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

اتوار کو بلوچستان کے علاقے خضدار سے حکام کے مطابق دو افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالمالک ایک ایسے وقت وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں جب صوبے میں ایک بار پھر لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سے پہلے بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ کے انتخاب کے لیے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر جان محمد جمالی کی قیادت میں ہوا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیرِاعلیٰ کے عہدے کے لیے واحد امیدوار تھے۔

ان کے انتخاب کے لیے اسمبلی میں موجود تمام 55 اراکینِ اسمبلی نے کھڑے ہو کر حمایت کا اظہار کیا، اور کسی نے مخالفت نہیں کی۔

بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں کامیابی کے لحاظ سے سرفہرست تین جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے حکومت بنانے کے لیے اتحاد قائم کیا ہے اور ڈاکٹر عبدالمالک کو مشترکہ طور پر ان جماعتوں کی جانب سے وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔ جبکہ جمعیتِ علمائے اسلام ف نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اس سے پہلے سنیچر کو بلوچستان اسمبلی میں قائدِ ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی سنیچر کی دوپہر دو بجے تک جمع کرائے جا سکتے تھے لیکن کسی امیدوار نے مقررہ وقت کے اختتام تک ڈاکٹر عبدالمالک کے مقابلے میں کاغذات داخل نہیں کیے تھے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچستان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیراعلیٰ ہیں۔ ماضی میں یہ عہدہ صوبے کے نوابوں اور سرداروں کے پاس ہی رہا ہے۔

انہوں نے سنیچر کو میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ مسخ شدہ لاشوں کا ملنا، لاپتہ افراد، فرقہ وارانہ کشیدگی اور اغوا برائے تاوان جیسے مسائل کا حل اُن کی ترجیح ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ وہ صوبے میں کرپشن کا خاتمہ کریں گے اور صوبے کے تمام مسائل کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کریں گے۔ انھوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ بھی اُن حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور سے حالات زیادہ خراب ہیں اور ان میں شدت اس وقت آئی جب ایک مبینہ فوجی آپریشن میں بلوچ قوم پرست بزرک رہنما نواب اکبر بگٹی مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد سے صوبے میں مزاحمتی تحریک جاری ہے اور پرتشدد واقعات معمول بن گئے ہیں جن میں لوگوں کا لاپتہ ہونا اور اس کے بعد ان کی لاشوں کے ملنے کے واقعات نمایاں ہیں۔

اسی بارے میں