’ناموسِ رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکیں‘

Image caption آج کے پاکستان میں آمروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے: صدر زرداری

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناموسِ رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہیئیں۔

صدر زردای نے پیر کی شام اپنے خطاب میں مزید کہا کہ دہشت گردی، عسکریت پسندی اور شدت پسندی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں صدر زرداری پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے مسلسل چھٹی بار خطاب کرنے والے پہلے صدر بن گئے ہیں۔

تاثیر کی برسی، توہینِ رسالت کے قوانین میں اصلاح کا مطالبہ

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمیں ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکا جا سکے۔‘

صدر نے صوبہ بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’بلوچستان میں امن اور مصالحت لازمی طور پر اولین ترجیح ہونی چاہیے، ہمیں لاپتہ افراد کے مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت ہے‘۔

صدر نے اس حوالے سے ماضی میں کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بتایا کہ لاپتہ افراد کے بارے میں ایک کمیشن پہلے ہی کام کر رہا ہے اور اس نے کچھ پیش رفت بھی کی ہے لیکن بہت زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی، عسکریت پسندی اور شدت پسندی پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

’قوم عسکریت پسندی کے خلاف متحد ہے۔اس خطرے پر قابو پانے کے لیے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے اور ہم ان کے ساتھ امن قائم کرنا چاہتے ہیں جو تشدد ترک کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہمیں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے‘۔

صدر زرداری نے کہا کہ حکومت کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گی۔ ’ ہم کسی کو بھی اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے نہیں دیں گے اور ملکی خودمختاری کا تحفظ ہر قمیت پر کیا جائے گا۔

صدر مملکت نے اپنے خطاب میں خواتین اور اقلیتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا’خواتین اور اقلیتیں سب سے زیادہ مجروع ہونے والے گروپ ہیں، اور انہیں بااختیار بنانے کی کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے‘

اس کے علاوہ انہوں نے بین العقائد ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر زرداری نے گیارہ مئی کے عام انتخابات میں شرکت پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت نے جمہوریت کے دشمنوں کی دھمکیوں کا مقابلہ کیا ہے۔ ان کی شرکت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مزاج جمہوریت پسند ہے۔

’آج کے پاکستان میں آمروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، میں لوگوں کی ہمت پر انہیں سلام پیش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے بولے‘۔

صدر زرداری کے گزشتہ پانچ بار کے خطاب میں ان کی جماعت پیپلز پارٹی اقتدار میں جبکہ اس بار اپوزیشن بینچز پر بیٹھی تھی۔

پاکستان کے آئین کے مطابق صدرِ مملکت کو عام انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کے پہلے سیشن کے آغاز پر اور اسی طرح ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں