لیاری ایک بار پھر ’میدانِ جنگ‘ بن گیا

Image caption فرزنہ نے بتایا کہ عرفان چھالیہ لینے گھر سے نکلے تھے کہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی ان کے سینے میں لگی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے سول ہپستال کے سرجیکل وارڈ میں بیڈ پر ایک طرف زخمی باپ ہے تو دوسری طرف چار سالہ بیٹی دونوں ہی تکلیف میں مبتلا ہیں، انہیں سنبھالنے کے لیے فرازنہ گھانچی تیمارداروں کے بینچ پر بیٹھی ہوئی ہیں۔

فرزانہ کے پچیس سالہ شوہر محمد عرفان آگرہ تاج کالونی میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔لیاری میں گذشتہ دو روز سے مسلح گروہوں میں فائرنگ کے تبادلے میں چار افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

محمد عرفان رکشہ چلاتے ہیں اور ان کی شادی کو پانچ سال ہوچکے ہیں۔فرزنہ نے بتایا کہ عرفان چھالیہ لینے گھر سے باہر نکلے تھے کہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی ان کے سینے میں لگی جس کے بعد لوگوں نے انہیں ہپستال پہنچایا۔’ دو روز سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچ اور کچھی مسلح گروہ ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے ہیں۔‘

محمد عرفان والدین کا اکلوتا بیٹا اور فرزانہ کا واحد سہارا ہے۔ فرزانہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو باپ کے بغیر نیند نہیں آتی وہ اسے کسی کے پاس چھوڑ بھی نہیں سکتیں اسی لیے انہیں ہپستال میں ساتھ رکھا ہے۔’ میری زندگی کا اثاثہ تو یہ ہی دونوں ہیں اسی لیے دونوں کا خیال رکھنا پڑ رہا ہے۔‘

لیاری میں دو روز قبل رینجرز کی فائرنگ سے ایک مبینہ ملزم کی ہلاکت کے بعد ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس دوران پولیس اور رینجرز اپنی عارضی چوکیوں سے پیچھے ہٹ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا کچھ عناصر نے فائدہ اٹھایا اور کشیدگی نے گروہوں کے درمیان تصام کی شکل اختیار کرلی جس کے دوران فائرنگ کے علاوہ دستی بموں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

فائرنگ کی زد میں زیادہ تر راہ گیر آئے۔آگرہ تاج کے رہائشی سولہ سالہ احمد کپڑا مارکیٹ میں کام کرتے ہیں وہ صبح کو ناشتہ لینے نکلے تھے کہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی کا نشانہ بن گئے۔ انہیں سر میں گولی لگی اور سول ہسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ دورِ حکومت میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پیدا ہو گئی تھی جس کے بعد اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے فریقین میں صلح کرادی تھی لیکن یہ کوشش دیر پا ثابت نہ ہوسکی ۔

کچھی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ انہیں سیاسی مخالفت کی سزا دی جا رہی ہے۔ کمیٹی کے رہنما حسین کچھی کا کہنا ہے کہ اس بار پاکستان پیپلز پارٹی نے مقامی لوگوں کو نظر انداز کر کے گینگسٹر کی مرضی سے انتخابی ٹکٹ دیے جس کی وجہ سے یہ سارا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

’ ہم نے سوچا کہ پیپلز پارٹی وہی غلطیاں مزید پانچ سال دوہرائے گی اس لیے ان کے ساتھ رہنے کا کیا فائدہ اسی لیے ہم نے کچھی رابطہ کمیٹی کے امیدواروں کو کھڑا کیا جس کا اب خمیازہ بھگت رہے ہیں۔‘

دوسری طرف کالعدم امن کمیٹی کے رہنما ظفر بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابات میں کچھی رابطہ کمیٹی اور ایم کیو ایم کی مشترکہ مہم کو عوام میں پذیرائی نہیں ملی اس لیے وہ عوام کو اس کی سزا دے رہے ہیں۔

ظفر بلوچ موجودہ صورتحال کا ذمہ دار متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کو قرار دیتے ہیں۔ الطاف حسین نے دو روز قبل اپنے خطاب میں فوج، رینجرز، آئی ایس آئی اور دیگر اداروں سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ وہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ذبح کرنے والے گینگسٹرز کو لگام دیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں وہ کچھ کرنا پڑے جو حق دفاع کے زمرے میں آتا ہے۔

ظفر بلوچ کا دعویٰ ہے کہ اس بیان کے ردِ عمل میں بلوچ آبادیوں اور آس پاس کے علاقوں میں تواتر سے حملے جاری ہیں اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ صورتحال پر قابو میں کرکے جو لوگ باہر سے لائے گئے ہیں انہیں باہر نکالا جائے۔

کچھی رابطہ کمیٹی کے رہنما حسین کچھی کا کہنا ہے جب ان کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا اور ان کے کمیونٹی سینٹروں پر قبضے کیے جائیں گے تو ان کے پاس احتجاج کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں۔

’اس صورتحال میں حکومت نے جو دفاع کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ دیا ہے وہ ظاہر ہے کہ شادی کے موقع پر فائرنگ کرنے کے لیے تو نہیں رکھا۔ آئین اور قانون بھی اپنے دفاع کی اجازت دیتا ہے۔ہم جب مزاحمت یا دفاع کرتے ہیں تو مخالفین اس کو ایم کیو ایم کی حمایت کے ساتھ منسلک کردیتے ہیں۔‘

سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری کالعدم امن کمیٹی کے اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ لیاری میں موجودہ صورتحال الطاف حسین کے بیان کا رد عمل ہے۔

فیصل سبزواری نے سوال کیا کہ مجرموں کے دو گروہوں کا آپس میں لڑنا، اور اس کے علاوہ کچھیوں کو راکٹ اور دستی بم مارنا کیا ردِعمل ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ نام نہاد سول سوسائیٹی اور میڈیا کی ذہانت پر حیران ہیں جو مجرموں سے ان کی معصومیت کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں