’ کاروبار دوست بجٹ مگر ٹیکس میں اضافہ بلاجواز‘

Image caption بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس میں شرح میں 1 فیصد کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے

پاکستان میں کاروباری طبقے نے جہاں بجٹ کو ’برنس فرینڈلی‘ قرار دیا ہے وہیں ساتھ ہی ساتھ اس کی بعض تجاویز پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے ان پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کاروباری برادری نے وزیر خزانہ کی طرف سے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی وصولی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کاروباری تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مشکل حالات حکومت نے ایک بہتر بجٹ پیش کیا ہے۔

کراچی چیمبرز آف کامرس کے سابق صدر مجید عزیز کہتے ہیں کہ اس بجٹ میں یہ دیکھنا ضروری نہیں کہ یہ ہماری توقعات کے مطابق ہے یا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ بجٹ کن حالات میں بنایا گیا ہے۔

ان کے بقول ملک کو جس قسم کے معاشی حالات کو سامنا ہے ان کو مدنظر رکھا جائے تو یہ ایک بہتر بجٹ ہے۔

مجید عزیز نے اعتراض اٹھایا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جی ایس ٹی یعنی جنرل جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 16 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی جو تجویز پیش کی ہے وہ بلاجواز ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے پر نظرثانی کرنا ہوگی کیونکہ بقول ان کے ملک میں پہلے ہی مہنگائی ہے اور پیداواری لاگت میں اضافہ سے ہونے سے مزید مہنگائی ہوگی۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسینگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین رضوان اشرف نے بجٹ کو برنس فرینڈلی قرار دیا ہے اور کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر زیادہ سہولیتں دی گئی ہیں جو بقول ان کے ایک اچھا فیصلہ ہے۔

رضوان اشرف جہاں اس بات پر خوش ہیں کہ اب بہتر طریقے سے ٹیکس اکٹھا ہوگا وہیں ان کو یہ بھی گلہ ہے کہ حکومت کو ان بالواسطہ ٹیکس نہیں لینا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ بالواسطہ ٹیکس کو ختم نہیں کیا گیا حالانکہ جب حکومت براہ راست ٹیکس لے رہی تو پھر ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

لاہور چمبرز آف کامرس کے صدر فاروق افتخار نے کہا کہ بجٹ میں دو سو پچیس ارب کے سرکلر ڈیٹ کو ساٹھ دنوں میں ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دینے ا یک بڑا اعلان ہے۔ ان کے بقول کہ بجٹ کاروباری برادری کے لیے خوش آئند ہے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسینگ ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے کہا کہ بجٹ میں بجلی کے بحران کو حل کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے لیکن کسی ایسے اقدام کا ذکر نہیں ہے جس سے بجلی کا مسئلہ فوری حل ہو سکے۔

اسی بارے میں