پشاور: 12 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی 12 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے جن میں سات وزراء کا تعلق تحریک انصاف جبکہ پانچ کا اتحادی جماعتوں سے ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت میں وزراء کی کل تعداد اب 14 ہوگئی ہے تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ کابینہ میں ابھی تک کسی خاتون وزیر کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

منگل کو گورنر ہاؤس پشاور میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں گورنر خیبر پختونخوا انجینئیر شوکت اللہ نے نئے وزراء سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق صوبائی کابینہ میں 12 نئے وزراء کو شامل کیا گیا ہے جن میں سات کا تعلق تحریک انصاف اور پانچ وزراء اتحادی جماعتوں سے لیے گئے ہیں۔

تحریک انصاف سے شامل کیے گئے وزراء کا مختصر تعارف

شوکت علی یوسف زئی

شوکت علی یوسف زئی کا تعلق بشام ضلع شانگلہ سے ہیں۔ وہ تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔ شوکت علی یوسف زئی بنیادی طور پر ایک صحافی ہیں اور پشاور سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار کے مالک بھی ہیں۔ وہ پشاور سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

شاہ فرمان

شاہ فرمان کا تعلق ضلع پشاور سے ہیں۔ ان کا شمار تحریک انصاف کے درینہ کارکنوں میں ہوتا ہے۔ وہ پی ٹی آئی پشاور کے صدر اور جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ وہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی، سٹرٹیجک کمیٹی اور سینٹرل کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے وکالت کی تعلیم حاصل کی ہے۔

محمود خان

محمود خان کا تعلق سوات کے علاقے مٹہ سے ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پہلی بار انتخاب میں حصہ لیا اور عوامی نیشنل پارٹی کے مضبوط امیدوار ایوب اشاڑے کو شکست دی۔

عاطف خان

عاطف خان صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 30 سے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق مردان سے ہیں۔ عاطف خان ممتاز صنعت کار حاجی فضل مالک کے پوتے اور حاجی فضل خالق کے صاحبزادے ہیں۔

یوسف ایوب خان

یوسف ایوب خان کا تعلق ہری پور کے ایک مشہور سیاسی خاندان سے ہیں۔ آپ اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اور صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ یوسف ایوب خان فیلڈ مارشل ایوب خان کے پوتے اور سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب خان کے بھتجے ہیں۔

اسرار اللہ گنڈاپور

اسرار اللہ گنڈا پور کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کولاچی سے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں آزاد حیثیت سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ۔ وہ پہلے بھی صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار عنایت اللہ گنڈا پور کے صاحبزادے ہیں۔

علی امین گنڈا پور

علی امین گنڈا پور کا تعلق ڈیرہ اسمیل خان سے ہیں۔ انہوں نے پی کے 64 ڈیرہ شہر سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخابات میں کامیاب حاصل کی۔ ان کے والد میجر ریٹائرڈ امین اللہ گنڈا پور سابق مشرف دور میں خیبر پختون خوا میں نگران کابینہ میں صوبائی وزیر رہے۔ انہوں نے نیشنل کالج آف ارٹس لاہور سے ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔

دیگر پانچ وزراء

صوبائی کابینہ میں شامل کیے گئے دیگر پانچ وزراء میں عنایت اللہ اور حبیب الرحمان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہیں۔

عنایت اللہ اس سے پہلے ایم ایم اے حکومت میں صحت کے وزیر رہ چکے ہیں۔ تحریک انصاف کی مخلوط حکومت میں شامل دو وزراء بخت بیدار اور حاجی ابرار کا تعلق قومی وطن پارٹی سے جبکہ ایک وزیر شہرام خان ترکئی کا تعلق عوامی جمہوری اتحاد سے ہے۔ تاہم کابینہ میں ابھی تک کسی خاتون وزیر کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

صوبائی کابینہ کے کل ارکان کی تعداد اب 14 ہوگئی ہیں۔ اس سے پہلے دو وزراء جماعت اسلامی کے سراج الحق اور قومی وطن پارٹی کے سکندر حیات شیرپاؤ پہلے ہی صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھا چکے ہیں۔

ادھر وزیر اعلی خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ کسی خاتون کو کابینہ میں تو شامل نہیں کیا گیا ہے لیکن ایک رکن کو سپیشل اسسٹنٹ کے عہدے پر تعینات کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں