’گزشتہ پانچ برسوں میں غربت دگنی ہو گئی‘

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد بڑھی ہے اور ان کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔

اسلام آباد میں بجٹ کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد بڑھی ہے اور ان افراد کو سہارا دینے کے لیے ملک کے صاحبِ حیثیت افراد کو ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ ویلتھ ٹیکس لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کسی اور مد میں خرچ نہیں کی جائے گی۔ اس رقم سے حاصل ہونے والے آمدن مستحق افراد کو فراہم ماہانہ وظیفے کی صورت میں دیی جائے گی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مستحق افراد کی مدد کے لیے سوشل سکیورٹی پروگرام کے لیے 75 ارب رکھے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں مستحق افراد کا ماہانہ وظیفہ ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 1200 روپے کر دیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ قرضے ملک کے معاشی مسائل کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں قرضوں کی مجموعی شرح خام ملکی پیداوار کے 60 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور ملک کے غیر ملکی اور ملکی قرضے جی ڈی پی کا 63.5 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت قرضوں میں کمی کرے گی اور اسے کم کر کے جی ڈی پی کے 61.5 فیصد تک لایا جائے گا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اُن کے دور میں قرض چکانے کے لیے مزید قرض نہیں لیا جائے گا اور صرف ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ایسی شرائط پر قرض لیا جائے گا جو ملک کے مفاد میں ہو۔

پاکستان میں فکسل ڈیٹ لیمٹیشن قانون کے تحت مجموعی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60 فیصد سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سابق حکومت نے قانون کے خلاف ورزی کی ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخوا نہ بڑھانے پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا ’ہمیں معاشی سمت درست کرنا ہے۔ معاشی سمت بہتر ہو گئی تو جن لوگوں کو ابھی کچھ نہیں دے سکے ہیں آئندہ اُن کا خیال رکھیں گے۔‘

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت معاشی شرح نمو کو سات سے آٹھ فیصد تک لانے کے لیے کوشاں ہے۔

بجٹ میں کیے گئے اقدامات سے چالیس ارب روپے کی بچت ہو گی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا ملک کو مشکلات سے باہر نکالنے کے تمام قوم کو اپنا فرض نبھانا ہو گا۔

اسی بارے میں