غیر ملکیوں کے بارے میں پاکستان سےمعلومات طلب

Image caption یہ اطلاعات امریکہ اور پاکستان کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کے تحت دی گئی: اہلکار

امریکہ نے پاکستان سے ان بارہ غیرملکیوں کے بارے میں معلومات مانگی ہیں جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دیکھے گئے تھے۔

ان افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُن کا تعلق القاعدہ تنظیم سے ہے اور وہ افغانستان میں امریکی اور انٹرنیشل سیکورٹی فورس یعنی ایساف پر حملوں میں ملوث ہونے کے علاوہ ان کے اُس گروہ کے ساتھ روابط ہوسکتے ہیں جنہوں نے لیبیا میں امریکی سفیر کو قتل کیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جن غیر ملکیوں کے بارے میں پوچھاگیا ہے اُن میں یمن اور سوڈان کے باشندے شامل ہیں اور یہ کالعدم تنظیم القاعدہ کے سرگرم کارکنوں میں سے بتائے جاتے ہیں۔ اہلکار کے مطابق یہ غیر ملکی اب پاکستان کے قبائلی علاقوں سے کہیں اور منتقل ہو گئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق یہ اطلاعات امریکہ اور پاکستان کے درمیان شدت پسندوں کے بارے میں خفیہ معلومات کے تبادلے کے تحت دی گئی ہیں۔

ان غیر ملکی باشندوں میں عمر الحطیری، طیب الحسن، سفیر القمر، طلحہ ابوخطیبی، عبداللہ بن حارث، بلیغ الزمان اور سعد ابوالحریری شامل ہیں۔ ان افراد پر اس شک کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ اُن کا تعلق اُسی گروہ سے ہے جنہوں نے سمتبر سن دو ہزار بارہ میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیون کو ہلاک کیا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا پر یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ القاعدہ نے اس واقع کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اُنہوں نے امریکی سفیر کو مارنے کی وجہ امریکہ کی طرف سے القاعدہ کے اہم رہنما ابو یحیٰی کی ہلاکت بتائی ہے جو ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

اہلکار کے مطابق ان اطلاعات کو خفیہ اداروں کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں تک بھی پہنچا دیاگیا ہے اور ان غیر ملکیوں کی تصاویر کو بھی ان اطلاعات کے ساتھ لف کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان اطلاعات میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ غیر ملکی چند ماہ قبل ہی افغانستان آئے تھے جہاں سے یہ کچھ عرصے کے بعد پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ان غیر ملکیوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُنہوں نے افغانستان میں اپنی اور ہم خیال تنظیموں کے ارکان کو متحرک کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور اسی وجہ سے گُزشتہ کچھ عرصے کے دوران افغانستان میں غیر ملکی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں شدت آئی ہے ۔

اسی بارے میں