کراچی: یومِ سوگ پر کاروبارِ زندگی معطل

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے اپیل پر جمعہ کو یوم سوگ کے باعث کاروبارِ زندگی معطل رہا جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول سے کم رہی۔

متحدہ قومی موومنٹ نے کارکنوں کی جبری گشمدگی اور ہلاکتوں کے خلاف جمعہ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔ ایم کیو ایم نے تاجروں اور ٹرانسپوروں کو کاروبار بند رکھنے کی اپیل کی تھی۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکن کئی سالوں سے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن رواں سال یوم سوگ اور کاروبار بند رکھنے کی اپیلوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متحدہ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے جمعرات کی شب ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ محمد آصف، محمد حسین اور محمد مسلم کے ماورائے عدالت قتل پر خاموش نہیں رہے سکتے۔ اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو وہ اپنی اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

خالد مقبول صدیقی نے سوال کیا کہ انھیں بتایا جائے کہ کون سا قانون اور آئین قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ عام شہریوں کو بغیر بتائے گرفتار کریں اور بعد میں تشدد کرکے ان کی لاشیں پھینک دیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس سے پہلے جس طرح بلوچستان میں بلوچ نواجونوں کو گرفتار کر کے لاپتہ کر دیا جاتا اور بعد میں ان کی لاشیں پھینک دی جاتی تھیں اب یہ سلسلہ کراچی میں بھی شروع ہو چکا ہے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کو سندھ حکومت میں شامل رکھنے کی کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔

جمعرات کو وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کی ہے۔

خیال رہے کہ گورنر ڈاکٹر عشرت بیرون ملک دورے سے جمعرات کو لوٹے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت حکومت سازی سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دے چکی ہے لیکن ایم کیو ایم نے حکومت کے بجائے اپوزیشن نشستوں کا انتخاب کیا ہے۔

اسی بارے میں