’بجٹ کی منظوری سے قبل جی ایس ٹی کا اضافہ غیر آئینی ہے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے نئے مالی سال کے اعلان کردہ بجٹ کی منظوری سے قبل پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی سیلز ٹیکس کے نفاذ پر کہا ہے کہ پیڑولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کا اضافہ غیر آئینی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک بجٹ باقاعدہ منظور نہیں ہوجاتا اُس وقت تک سیلز ٹیکس میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی نو منتخب حکومت نے سنہ 2013، 2014 کے مالی سال کے بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس میں ایک فیصد اضافہ تجویز کیا ہے جس کے بعد جی ایس ٹی کی شرح 16 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد ہو جائے گی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعہ کو جی ایس ٹی میں اضافے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے ایک نوٹ عدالت میں پیش کیا گیا جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس میں اضافے کے بارے میں تجویز دی گئی ہے۔

اس نوٹ میں مذید کہا گیا ہے کہ چونکہ ابھی تک بجٹ کی باضابطہ طور پر منظوری نہیں دی گئی اور صدر مملکت نے اس پر دستخط بھی نہیں کیے اس کے باوجود جی ایس ٹی 16 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس بجٹ کی منظوری سے پہلے ہی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا اور ایک ہی روز میں عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکال لیے گئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت یہ حکم بھی جاری کرسکتی ہے کہ عوام کی جیبیوں سے نکالے گئے پیسے کو واپس لایا جائے۔ اس کے علاوہ عدالت اس نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کرسکتی ہے۔

اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو استدعا کی کہ اُنہیں حکومت سے اس ضمن میں ہدایات اور مشاورت کے لیے وقت دیا جائے جس پر سپریم کورٹ نے اس از خودنوٹس کی سماعت 18 جون تک کے لیے ملتوی کردی۔

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی نے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جی یایس ٹی میں اضافے کے خلاف ایک تحریک التوا جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بل کی منظوری کے بغیر ہی جی ایس ٹی میں اضافہ کر کے پارلیمنٹ کی توہین کی گئی ہے لہذا اس اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

اسی بارے میں