ججز نظر بندی کیس میں مشرف پر فردِ جرم عائد

اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر ججز مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

ججز نظربندی کیس کی سماعت سنیچر کو چک شہزاد میں واقع پرویز مشرف کے فارم ہاؤس میں ہوئی جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

عدالت کے جج کوثرعباس زیدی مقدمہ کی سماعت کے لیے سب جیل پہنچے تھے۔

عدالت کی جانب سے پرویزمشرف کو الزامات کی فہرست وہیں پڑھ کر سنائی گئی۔

اسلام میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس مقدے کے سرکاری وکیل ندیم طابش سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

سابق صدر نے فرد جرم کی صحت سے انکار کیا ہے۔

عدالت نے پرویزمشرف کی جانب سے الزامات سے انکار کے بعد استغاثہ کے گواہوں کواگلی سماعت پرطلب کر لیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق عدالت نے مقدمے کی سماعت 21 جون تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ 11 اگست سنہ 2009ء کو چوہدری محمد اسلم گھمن کی شکایت پر درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔

اس ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 3 نومبر سنہ 2007ء کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت ساٹھ ججز کو حبس بے جا میں رکھنے پر جنرل مشرف کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

خیال رہے کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو اُن کے اہلخانہ کوگھروں میں نظر بند کر دیا تھا۔

نظر بندی کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے کچھ ججوں نے غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا تھا، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد چیف جسٹس سمیت باقی چند ججوں کی نظر بندی ختم کردی تھی۔

اسی بارے میں