کوئٹہ: دھماکے اور فائرنگ میں 14 طالبات سمیت 25 ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دو دھماکوں اور فائرنگ کے واقعے میں کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور چودہ طالبات سمیت 25 افراد ہلاک جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور ایف سی کے کپتان سمیت پچیس سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق بولان میڈیکل کمپلیکس میں ہونے والی تباہی اور دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر یہاں سے مریضوں کو کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

سکیورٹی فورسز نے چار حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کیا ہے۔کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی نے دھماکے اور ہسپتال پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی: عینی شاہد

دھماکے اور آپریشن کی تصاویر

حکام کا کہنا ہے کہ بولان میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکو لیگل افیسر شبیر مگسی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ہیں اور اب ہلاکتوں کی تعداد پچیس ہو گئی ہے۔

پولیس حکام نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ پہلا دھماکہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی ایک بس میں ہوا اور اس دھماکے کی زخمی طالبات کو بولان میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا جہاں شعبہ حادثات میں دوسرا دھماکہ ہوا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا۔

حکام کے مطابق سات سے آٹھ مسلح افراد نے ہسپتال کے اندر عملے اور مریضوں کو یرغمال بنایا ہوا تھا اور وہی فائرنگ کر رہے تھے۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ بولان میڈیکل کمپلیکس میں گھسنے والے مسلح دہشتگردوں کے خلاف آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور ایف سی کے چار اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ اس سے قبل بروری روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والی طالبات کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے چار حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کیا ہے جبکہ ہسپتال سے 35 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

کوئٹہ کے ڈی آئی جی آپریشنز نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ دہشتگردی کے ان واقعات میں ڈپٹی کمشنر کا ایک محافظ بھی مارا گیا جبکہ پاکستان نرسنگ فیڈریشن کے صدر ریاض لوئیس کے مطابق فائرنگ سے چار نرسیں بھی ہلاک ہوئی ہیں۔

حکام کے مطابق بولان میڈیکل کالج میں فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کا ایک کپیٹن اور پولیس کا ایک ڈی ایس پی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر سی سی پی او کوئٹہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’سکیورٹی فورسز نے بولان میڈیکل کمپلیکس کے اس حصے کو کلیئر کر دیا ہے جہاں ہمارے حساب سے شدت پسند موجود تھے۔ ہم ہر کمرے کی تلاشی لے رہے ہیں۔‘

کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی چھ جون کو خروٹ آباد میں سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی کا بدلہ ہے جس میں ایک خاتون سمیت 5 افراد مارے گئے تھے۔

کوئٹہ میں دہشتگردی کے اِن واقعات کا آغاز سنیچر کی دوپہر بروری روڈ پر یونیورسٹی کی بس میں دھماکے سے ہوا۔

پولیس کے مطابق بم بس میں نصب تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پھاڑا گیا۔ دھماکے سے بس میں آگ لگ گئی اور وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

اس دھماکے کے بعد زخمی طالبات کو مقامی ہسپتال بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا اور جب اعلیٰ حکام موقع پر پہنچے تو ہسپتال میں ایک اور دھماکہ ہوا۔

Image caption دہشتگردی کے ان واقعات میں ڈپٹی کمشنر کا ایک محافظ بھی مارا گیا

بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے ترجمان جان محمد بلیدی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب دوسرا دھماکہ ہوا تو کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر دونوں ہسپتال میں موجود تھے اور ڈپٹی کمشنر عبدالمنصور کاکڑ ہلاک اور اسسٹنٹ کمشنر انور علی شر زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق دھماکے میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر عیسیٰ جوگیزئی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

بس پر ہوئے حملے میں زخمی ہونے والی طالبات میں سے سترہ بولان میڈیکل کمپلکس میں زیرِ علاج تھیں۔

یہ بلوچستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد کوئٹہ میں دہشتگردی کی پہلی بڑی واردات ہے۔

وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نے ویمن یونیورسٹی کی بس پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

یاد رہے کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی بلوچستان میں خواتین کی واحد یونیورسٹی ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق یونیورسٹی میں تقریباً تین ہزار طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔

دریں اثنا سنیچر کی صبح ہی بلوچستان کے شہر زیارت میں واقع پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی رہائش گاہ زیارت ریزیڈنسی کے اطراف چار زوردار دھماکے ہوئے ہیں جن سے لکڑی سے بنی اس عمارت کی دیواروں کے سِوا تمام سامان جل کر تباہ ہوگیا۔

کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اسی بارے میں