بیاد ’زیارت ریزیڈنسی‘

Image caption یہ خوبصورت رہائش گاہ سنہ 1892ء کے اوائل میں لکڑی سے تعمیر کی گئی تھی

بانی پاکستان محمد علی جناح کی رہائش گاہ ’زیارت ریزیڈنسی‘ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق میں ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر صحت افزا مقام زیارت میں واقع ہے۔

زیارت ایک پُرفضا سیاحتی مقام ہے اور پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح اپنی وفات سے قبل یہاں ’زیارت ریزیڈنسی‘ میں مقیم تھے۔

یہ خوبصورت رہائش گاہ سنہ 1892ء کے اوائل میں لکڑی سے تعمیر کی گئی تھی۔ اُس دور میں برطانوی حکومت کے افسران وادیِ زیارت کے دورے کے دوران اسے اپنی رہائش کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد سنہ 1948ء میں بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ناساز طبیعت کے باعث یہاں آئے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے آخری دو ماہ اس رہائش گاہ میں قیام کیا۔

ان کے انتقال کے بعد اس رہائش گاہ کو ’قائد اعظم ریزیڈنسی‘ کے نام سے قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔

زیارت کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نصیب کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب زیارت ٹاؤن میں قریبی پہاڑیوں سے مسلح حملہ آور قائداعظم ریزیڈنسی میں داخل ہوئے اور یہاں بم دھماکے کیے۔

انھوں نے بتایا کہ نصب کیے جانے والے چار بم پھٹنے سے زیارت ریزیڈنسی میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں نہ صرف عمارت تباہ ہوگئی بلکہ بانی پاکستان کے زیرِ استعمال جن اشیا کو قومی ورثے کے طور پر محفوظ کیا گیا تھا، وہ بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔

Image caption آتش زدگی سے عمارت کا اکثر حصہ جل کر راکھ ہو گیا

ہمارے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق زیارت ریزیڈنسی کے قریب گورنر ہاؤس اور وزیرِاعلیٰ ہاؤس واقع ہیں جبکہ اس کے گردونواح میں سرکار کی دفتری اور رہائشی عمارتیں ہیں۔

پْر فضا سیاحتی مقام ہونے کی وجہ سے ملک کے بیشر حصوں سے لوگ گرمیوں کے موسم میں زیارت کا رخ کرتے ہیں۔

جرائم کی تعداد کم ہونے کے باعث یہاں سکیورٹی عملہ بھی معمول سے کم ہوتا ہے۔

زیارت بنیادی طور پر پشتونوں کا علاقہ ہے جہاں پر زیادہ تر پشتون قبیلہ کاکڑ آباد ہے۔ یہاں پر اکثر لوگ زراعت اور سیاحت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔

زیارت کا شمار بلوچستان کے سرسبز ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں صنوبر کے جنگلات ہیں۔

دوسرے پھلوں کے ساتھ زیارت کی چیری بھی پورے ملک میں مشہور ہے۔

زیارت میں جمعیت العلما اسلام (ف) کا زیادہ اثر رسوخ ہے اور اکثر نمائندے اُن ہی کے منتخب ہو کر پارلیمان میں آتے ہیں۔ یہاں پر دوسری بڑی سیاسی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی ہے۔

اسی بارے میں