’سزا کا خوف بھی بہت ضروری ہے‘

Image caption ملک کی جیلوں میں موت کی سزا پانے والے تقریباً ساڑھے سات ہزار قیدی موجود ہیں

سپین کے شہر میڈرڈ میں سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں شریک مندوبین کی طرف سے اس سزا کو انسانی حقوق سے متصادم قرار دینے کے بعد پاکستان میں سول سوسائٹی نے بھی حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے کہ وہ بھی ملک میں اس سزا کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کی جیلوں میں موت کی سزا پانے والے تقریباً ساڑھے سات ہزار قیدی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار سے زائد ایسے قیدی بھی ہیں جنہیں مختلف عدالتوں سے موت کی سزا سُنائے جانے کو بھی پندرہ سال سے زیادہ ہوگئے ہیں۔

پاکستان میں عمر قید کی سزا پچیس سال ہے جس میں دن رات کو علیحدہ گِنا جاتا ہے، اس طرح یہ سزا بھی ساڑھے بارہ سال سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سابقہ حکومت نے موت کی سزا ختم کرنے کا عزم کیا تھا مگر اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

گُذشتہ پانچ برس میں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں اس پر کوئی قانون سازی تو نہیں ہوسکی البتہ صدر آصف علی زرداری نے اس سزا پر عمل درآمد روکنے سے متعلق ایک آرڈیننس جاری کیا جس میں ہر تین ماہ بعد توسیع ہوتی رہتی ہے۔

قیام پاکستان کے وقت صرف دو جرائم ایسے تھے جن کی سزا سزائے موت تھی لیکن اب اٹھائیس جرائم ایسے ہیں جن میں جُرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ ان میں قتل کے علاوہ دہشت گردی، زنابالجبر اور اغوا برائے تاوان سمیت دیگر جرائم شامل ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے جرائم کی فہرست میں کمی کی کوشش کی جا رہی ہے جن کی سزا موت ہے جبکہ پاکستان میں جرائم کی اُس فہرست میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس میں سزائے موت دی جاسکے۔

اُنہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں توہین مذہب کی طرح کے قوانین میں ترمیم کرنے سے ڈرتی ہیں کیونکہ اُنہیں خدشہ ہے کہ مذہبی جماعتیں اُن کے خلاف ہو جائیں گی۔

آئی اے رحمان کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظمیں اس سزا کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

فیصل آباد کی سینٹرل جیل کے سپرنٹینڈنٹ طارق بابر نے اس سزا کو برقرار رکھنے کے بارے میں کہا کہ ’معاشرے میں کسی بھی جُرم کی سزا کا خوف بھی بہت ضروری ہے ورنہ لوگ بےخوف ہوکر جرائم سرزد کرنا شروع کردیں گے۔‘

اُنہوں نے کراچی میں شاہ زیب قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جرائم کی سزا کا خوف نہ ہونے کی وجہ سے بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے سرعام ایک طاب علم شاہ زیب کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اسلام اور ملک کے قانون کے مطابق قتل کی سزا موت ہے اس لیے مجرم کو بھی ہلاک ہی ہونا ہے جب تک مقتول کے ورثاء اُنہیں معاف نہ کردیں۔

سزائے موت کے قانون کو ختم ہونا چاہیے یا اس قانون پر عمل درآمد جاری رہنا چاہیے یہ بحث تو اپنی جگہ لیکن مختلف عدالتوں سے موت کی سزا پانے والوں کو جس جگہ پر رکھا جاتا ہے اُس سے انسانیت کی تذلیل کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔

قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم گلوبل فاونڈیشن کی صدر اُلفت کاظمی کا کہنا ہے کہ ڈیتھ سیل میں رکھے جانے والے قیدی جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی امراض میں بھی مبتلا ہو رہے ۔

اُنہوں نے کہا کہ ایک سیل میں پانچ سے سات قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جہاں پر بمشکل ایک یا دو افراد کو رکھنے کی گُنجائش ہے۔ ان قیدیوں کو اس ڈیتھ سیل میں سے چوبیس گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ باہر نکالا جاتا ہے۔

سزائے موت پانے والے قیدیوں سے ملاقات کے لیے بی بی سی نے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے اجازت طلب کی لیکن متعقلہ سرکاری حکام نے اجازت نہیں دی۔

اسی بارے میں