ڈائلیسس کے دوران ہیپاٹائٹس بھی ہوگیا: رپورٹ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں محکمۂ صحت کی ایک انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پشاور کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث گردوں کے مرض میں مبتلا کئی مریضوں کو ہیپاٹائٹس کی بیماری لاحق ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں انکوائری رپورٹ کے متعلق کچھ معلوم نہیں اور نہ ہی انھیں رپورٹ کی کوئی کاپی فراہم کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ محکمۂ صحت اور سول سیکرٹریٹ پشاور کے افسران پر مشتمل ٹیم کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہپستال کے ڈائلیسس یونٹ میں گردوں کی صفائی کے دوران تقریباً 34 مریض گردوں کے مرض کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے امراض کا بھی شکار ہوگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آلودہ الات کے استعمال کے باعث گزشتہ چھ ماہ کے دوران کئی مریض خون سے منتقل ہونے والے دوسری بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام طورپر ڈائلیسس کے دوران مریض کو مصنوعی گردہ لگایا جاتا ہے جس کے بعد وہ گردہ کسی دوسرے مریض کو نہیں لگایا جاتا کیونکہ اس سے بیماریاں منتقل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

لیکن لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈائلیسس یونٹ میں ایک ہی مصنوعی گردہ بار بار دیگر مریضوں کےلیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کا ذمہ دار ڈائلیسس یونٹ کا سٹور کیپر ہے جس نے مالی فائدہ حاصل کرنے کےلیے سینکڑوں مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔

رپورٹ میں ان 34 مریضوں کے نام اور پتے بھی فراہم کیےگئے ہیں جنہیں لیڈی ریڈنگ ہپستال میں گردوں کی صفائی کے دوران انھیں کالے یرقان کا مرض لاحق ہوگیا ہے اور اس طرح اب تک کوئی 500 کے قریب مریض شکار بنے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کیا گیا ہے کہ ڈائلیسس یونٹ میں ڈاکٹروں اور ملازمین کی جانب سے کروڑوں روپے کا غبن بھی کیا گیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق مریضوں سے لی گئی رقم ہپستال میں دینے کی بجائے ڈائلیسس یونٹ کے سٹاف کی جیبوں میں جاتی رہی اور یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ حکومت کو پیش کردی گئی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ارشد جاوید نے کہا ہے کہ انہیں انکوائری رپورٹ کے متعلق کچھ معلوم نہیں اور نہ انھیں کوئی کاپی دی گئی ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں بھی ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا ہے کہ اس قسم کی کوئی انکوائری عمل میں لائی گئی ہے جس میں ڈائلیسس یونٹ کے حوالے سے الزامات سامنے آئے ہیں۔

چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ ہسپتال کا ڈائلیسس یونٹ اپنی نوعیت کا جدید یونٹ ہے جس سے صوبے میں گردوں کے مریض کئی سالوں سے مستفید ہورہے ہیں۔