برسوں بعد بھی فاصلے

Image caption افغانوں نے عشروں کے عرصے میں اپنے کاروبار جما لیے ہیں

وہ دونوں گذشتہ بیس سالوں سے ایک فرلانگ سے بھی کم فاصلے پر جی رہے ہیں لیکن ان برسوں نے ان کے بیچ کے فاصلے کو کم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔ پہلا افغان ہے جواس لیے پریشان ہے کہ وہ اپنا چمکتا ہوا کاروبار چھوڑ کراپنے وطن کیسے لوٹ جائے جہاں آئندہ سال یعنی 2014 کے بعد بےیقینی کا اندھیرا ہے۔

دوسرا پاکستانی ہے جس کی خواہش ہے کہ بس اب بہت ہو چکی اس کو اب واپس لوٹ جانا چاہیے۔

یہ دونوں پشاور کے یونیورسٹی روڈ سے نکلنے والے ارباب روڈ کے باسی ہیں۔ یہ شاہراہ کوئی پچاس کلومیٹرسے بھی کم فاصلے پرجاکر طورخم کے راستے افغانستان میں جا ملتی ہے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان کے کسی بھی اورشہری علاقے کے مقابلے میں افغانستان کے زیادہ قریب ہے۔

ارباب روڈ کوبھی 1979 میں افغانوں کی بڑی تعداد آباد ہونے کے بعد سے کیا کیا نام نہ ملے۔ کبھی اسے ’چھوٹا افغانستان‘ کہا گیا تو کبھی ’منی کابل۔‘ لیکن اتنے برسوں پہلے اس علاقے میں شروع ہونے والے اس سنگم کا حال اٹک کے مقام پر دریائے سندھ اور دریائے کابل کے ملاپ کی طرح ہے کہ دونوں دور تک اپنی اپنی رنگت برقرار رکھتے ہوئے چلتے ہیں اور ایک دوسرے میں مکمل طور پر ضم نہیں ہونے پاتے۔

میں نے ارباب روڈ کے ایک شہری نوید علی خلیل سے ان کی خواہش کی وجہ پوچھی تو وہ بولے: ’یہ جب آئے تو ہم نے اپنی روٹی آدھی کی، آدھی ان کو کھلائی، آدھی خود کھائی۔ ان کی آمد کے ساتھ ہی ہماری معیشت سخت متاثرہوئی، ہسپتالوں پربوجھ بڑھا، جرائم میں افغان گروپوں کی بدولت اضافہ ہوا، لیکن ہم ان کے ساتھ جیتے رہے۔ لیکن اب تو افغانستان میں حالات کہیں کہیں پاکستان سے بھی زیادہ بہتر ہیں تو پھر یہ واپس کیوں نہیں چلے جاتے؟‘

اس ساری بات چیت کے دوران ان کی کوشش تھی کہ وہ تلخ نہ ہوں لیکن اس کی باتوں سے بے بسی ضرور ظاہر ہو رہی تھی۔

ان سے یہ سب پوچھنے کے بعد اسی ارباب روڈ پرخیاطی یعنی درزی کا کام کرنے والے افغان پناہ گزین حمیداللہ سے معلوم کیا کہ آیا وہ اپنے اس وطن میں جانے کی کوئی خواہش رکھتے ہیں جس میں ملکی فوج نے سلامتی کی صورت حال سنبھال لی ہے اورمعیشت بھی کسی حد تک بہتری مائل ہے۔ یہی نہیں بلکہ وہ پاکستان جہاں کبھی افغان مزدوری کرنے آتے تھے، اب وہاں کے لوگ کام کرنے افغانستان جاتے ہیں جہاں پرکام کا معاوضہ اور مزدوری پاکستان اورافغانستان کے کم قدر والے روپے میں نہیں امریکی ڈالروں میں ملتی ہے۔

ان کا جواب تھا کہ وہ پاکستان میں خوش ہیں، جہاں پرکاروبار شاید افغانستان سے کم منافع بخش ہو لیکن کم ازکم صورتحال اتنی غیریقینی نہیں جتنی افغانستان میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں مقیم افغان بہت سارے کاروبار کررہے ہیں اور باوجود اس کے کہ ان کے پاکستان میں موجودگی کے اجازت نامے کی معیاد بھی ختم ہوچکی ہے، وہ افغانستان واپس جانے سے اس لیے کتراتے ہیں کہ پتا نہیں وہاں سے اتحادی فوجوں کے بوریا بستر لپیٹنے کے بعد کیا ہوگا۔

اسی شش و پنج کے عالم میں وہ کچھ پریشان بھی ہیں کہ پتا نہیں پاکستان انہیں مزید رکھنے کے لیے تیار بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے کاروبارکو ترویج بھی یہیں ملی اور ترقی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس پاکستان سے جانے کے لیے تیارنہیں جہاں انھوں نے تعلیم حاصل کی اوریہاں خالی ہاتھ آنے کے بعد وہ اب اتنے بڑے کاروبارکا مالک بن چکے ہیں۔

انھیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ جتنی بڑی تعداد میں افغان پاکستان میں بس چکے ہیں وہ کبھی یہاں سے نہیں جائیں گے۔

یہ سب اتنے دور اور ایک دوسرے سے کسی حد تک لاتعلق کیوں ہیں۔ اس کا سراغ لگانے کے لیے ماضی میں جھانکنا ہوگا۔

جوشاید اتنا تلخ نہ ہوتا اگردونوں طرف کا کچھ میڈیا کچھ خاص سوچ کی قوتوں کی زد میں رہ کر ایک دوسرے ملک کے خلاف پروپیگنڈا نہ کرتا۔

کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں بعض میڈیا آرگنائزیشنیں وہ مواد چھاپتی ہیں جو افغانوں کوغصہ دلانے کا موجب بنتا ہے اورکسے معلوم نہیں کہ افغانستان میں کچھ چینل پاکستان کے خلاف اٹھنے والی ہرخبرسے گھنٹوں لیڈ کر رہے ہوتے ہیں اور یہی وہ مواد ہوتا ہے جو لوگوں کی رائے تشکیل کرتا ہے۔

ماضی میں پاکستان اورافغانستان اس سے بھی زیادہ کشیدہ، بلکہ تلخ رہے، لیکن دو نوں ملکوں کے کم ترقی یافتہ میڈیا میں خبریں نشر نہ ہونے اورنفرتوں کی کھڑکیاں ٹی وی سیٹوں کے ذریعے دونوں ملکوں کی خواب گاہوں میں نہ کھلنے کی وجہ سے عام عوام کبھی اس سے اتنے متاثرنہ ہوتے تھے جتنے آج ہیں۔

کیا صورتحال اتنی خراب ہے کہ جسے سنبھالا نہ جاسکے؟ جب بھی پاکستان میں دانشور طبقے سے یہ سوال کیا جاتا ہے تو ان میں سے زیادہ تر یہی کہتے ہیں کہ پاکستان کوافغانستان میں سٹریٹجک ڈیپتھ نامی عنقا پرندے کا پیچھا بند کرنا چاہیے اور افغانوں کویقین دلانا چاہیے کہ پاکستان ان کی خوشی میں خوش اورغم میں غم زدہ ہے۔

پشاوریونیورسٹی بھی دانشوروں کی تیاری کا اہم منبع ہے یہاں کے اہم ترین شعبے ایریا سٹڈی سنٹرکے ڈائریکٹر ڈاکٹر فخرالاسلام کہتے ہیں کہ نفرتوں کو ہوا ملتی نظرتوآ رہی ہے لیکن کسی کویہ سمجھ نہیں آرہی کہ جن افغانوں نے نقل مکانی کرکے یہاں زندگی گزاری وہ پاکستان کو اور پاکستانی انہیں اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔

اس لیے آج بھی جب شکوے ہوتے ہیں توافغان ہمیشہ کہتے ہیں کہ انہیں عوام سے نہیں ریاستی پالیسیوں سے شکوہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اورافغانستان کوقریب لانے کے لیے لوگوں کے رابطے بڑے ضروری ہیں بلکہ پاکستان کو تواب ایک قدم آگے بڑھ کران افغانوں کو شہریت دے دینی چاہئیے جو کئی دہائیوں سے یہاں آباد ہیں۔