پشاور کے قریب حملے میں پانچ اہل کار ہلاک

Image caption مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مضافات کو عسکریت پسندوں کو صاف نہیں کیا گیا تو پشاور شہر کے اندر حملوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی گشتی ٹیم پر ہونے والے ایک حملے میں فوج کے کم سے کم پانچ سپاہی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے، جب کہ جوابی حملے میں چار شدت پسند مارے گئے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی رات پشاور شہر سے تقربناً 15 کلومیٹر دور متنی کے علاقے سرہ خاورہ میں پیش آیا۔ متنی پولیس سٹیشن کے انچارج بہرام خان نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج کے سپاہی معمول کے گشت پر تھے کہ اس دوران ان پر شدت پسندوں کی طرف سے بھاری ہھتیاروں سے حملہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں کم سے کم فوج کے پانچ سپاہی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ پولیس افسر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی جوابی کارروائی کی گئی جس میں چار عسکریت پسند مارے گئے۔ تاہم مقامی ذرائع نے مرنے والے سپاہیوں کی تعداد چھ بتائی ہے۔

خیال رہے کہ پشاور شہر سے چند کلومیٹر دور سرحدی اور مضافاتی علاقوں میں کچھ ہفتوں سے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ایک مرتبہ پھر شدت آرہی ہے۔ تقربناً چار ہفتے قبل اسی علاقے میں پولیس اور ایف سی اہلکاروں پر ہونے والے دو حملوں میں دس کے قریب سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پشاور کے ڈیفنس لائن کے طورپر مشہور متنی کا علاقہ تین اطراف سے قبائلی علاقوں خیبر ایجنسی، ایف آر پشاور اور ایف آر کوہاٹ درہ آدم خیل سے جڑا ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہاں عسکریت پسندوں کے کئی گروہ سرگرم ہیں جس کی وجہ سے یہاں پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے اہلکاروں پر دن کے وقت بھی حملے معمول بن چکے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں بعض علاقے سکیورٹی فورسز کےلیے ’نو گو ایریا’ بنتے جارہے ہیں۔

اس علاقے میں پہلے مقامی افراد پر مشتمل طالبان مخالف لشکر سرگرم تھے لیکن کچھ عرصہ حکومتی حامی یہ تمام لشکر غیر فعال ہوگئے ہیں۔ عسکریت پسندوں کے حملوں میں لشکر کے کئی اہم رہنما اور رضاکار بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان علاقوں کو عسکریت پسندوں کو صاف نہیں کیا گیا تو اس سے پشاور شہر کے اندر حملوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں