سکیورٹی اداروں سے تجاویز طلب، کوتاہی پر احتساب

Image caption سکیورٹی پر کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی جائے گی: وزیر داخلہ

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ قومی سکیورٹی پالیسی کی تشکیل کے لیے بلائے گئے اجلاس میں لاپتہ افراد کے مسئلے اور سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر رابطوں کے لیے دو ٹاسک فورسز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بات وزیر داخلہ نے جمعرات کو اسلام آباد میں اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

انہبوبں نے کہا کہ قومی سکیورٹی پالیسی کی تشکیل کے لیے بلائے گئے اجلاس میں تمام سکیورٹی اداروں کے سربراہان سے تجاویز مانگی گئی ہیں۔

’نئی قومی سکیورٹی پالیسی کا مقصد مختلف سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری ہے۔ قومی سلامتی کے بارے میں پالیسی تشکیل دینے کے لیے سکیورٹی فورسز کے سربراہان سے دو روز میں سفارشات مانگی ہیں۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی پر کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی جائے گی اور جو بھی ادارہ سکیورٹی فراہم کرنے میں کوتاہی کا مرتکب ہو گا اس کا احتساب کیا جائے گا۔

’کوئی نہیں پوچھتا کہ سکیورٹی فراہم کرنے میں کس سے کوتاہی ہوئی۔ ہم نے کوئٹہ میں واقعات کے بعد احتساب شروع کر دیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ قومی سکیورٹی پالیسی کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں تین اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

’کچھ امیر لوگوں کی سکیورٹی پر مامور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ ہم سکیورٹی فورسز کو نجی چوکیدار نہیں بنانا چاہتے۔‘

انہوں نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور ایف سی کے اہلکار صرف صدر، وزیر اعظم اور پاکستان کے چیف جسٹس کی سکیورٹی پر مامور ہوں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جب تک قومی سکیورٹی وضع نہیں ہو جاتی تب تک کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی گئی ہے۔ ’اس ٹاسک فورس کا مقصد مختلف سکیورٹی ایجنسیوں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر ایک اور ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔

’اس ٹاسک فورس کے بارے میں مزید تفصیلات کچھ روز میں جاری کی جائیں گی۔ اس میں لاپتہ افراد کے لواحقین، وزارت داخلہ، اور جن اداروں کے خلاف شکایات ہیں وہ سب اس ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے۔‘

اسی بارے میں