مینگروز کی شجرکاری کا عالمی ریکارڈ

  • 22 جون 2013
تمر کی شجر کاری
Image caption پاکستان میں دریائی پانی سمندر میں نہ جانے سے مینگروز کی نشوونما میں کمی واقع ہوئی تھی

پاکستان میں مینگروز یعنی تمر کے آٹھ لاکھ سینتالیس ہزار پودے ایک دن میں لگا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔

ورلڈ گنیز بک آف ریکارڈ کی جانب سے اس عمل کی نگرانی کے لیے ماہر ماحولیات رفیق الحق موجود تھے۔

سنیچر کو سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ رضاکار کشتیوں میں سوار ہو کر کراچی سے دو سو پچاس کلومیٹر دور کیٹی بندر کے چھوٹے چھوٹے جزائر پر پھیل گئے اور مینگروز لگانے کا آغاز کر دیا۔

ننگے پاؤں سبز اور نارنجی رنگ کے کوٹ پہننے ہوئے تین سو رضاکار دوڑیں لگا کر زیادہ سے زیادہ مینگروز لگانے میں مصروف رہے۔

کھارو چھان کی شناخت ویسے تو ایک ایسے علاقے کی ہے جہاں دریائے سندھ کا پانی نہ آنے کی وجہ سے سمندر آگے بڑھ آیا اور خشکی کا ایک بڑا حصہ سمندر برد ہوگیا، جس میں کئی لاکھ ایکڑ زرعی زمین شامل تھی۔

اس کے علاوہ یہاں کی شناخت مچھیرے ہیں جن میں سے کئی بھارتی جیلوں میں قید ہیں یا ماضی میں قید رہ چکے ہیں، مگر سنیچر کو اس علاقے کی بین الاقوامی شناخت شجرکاری کے حوالے سے ہوئی۔

ہر رضاکار کو دو بوریاں دی گئیں اور ہر بوری میں مینگروز کی گیارہ سو قلمیں تھیں، ہرگروپ میں تیس رضاکار قلمیں لگانے پر تعینات تھے جبکہ دس ان کے مددگار تھے۔

یہ رضاکار زیادہ تر محکمۂ جنگلات کے ملازم تھے جنہیں ایک ہزار روپے اضافی معاوضہ اور کپڑوں کا ایک جوڑا دیا گیا۔

محکمۂ جنگلات سندھ کے چیف کنزرویٹر ریاض وگن کے مطابق اس مہم کا مقصد مینگروز کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا، مچھلی اور جھینگوں کی افزائش نسل بڑھانا ہے۔

سال دو ہزار نو میں بھی پاکستان نے کیٹی بندر میں پانچ لاکھ پینتالیس ہزار مینگروز لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، لیکن اگلے سال ہی بھارت نے یہ ریکارڈ توڑ دیا۔

چار سال پہلے لگائے گئے مینگروز میں سے کتنے محفوظ رہے، اس کا کوئی ریکارڈ تو دستیاب نہیں لیکن محکمۂ جنگلات کے چیف کنزرویٹر ریاض وگن کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ستر فیصد مینگروز محفوظ رہے جبکہ باقی تیس فیصد کو دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد بحال کیا گیا۔

ریاض وگن کا کہنا تھا کہ’ قدرتی نشونما اس وقت ہی ہو سکتی ہے جب مینگروز کے پودوں کو روندنے سے بچایا جائے، ان جزائر پر اونٹ چرنے آتے ہیں جو ان پودوں کو روند دیتے ہیں، ان کی کوشش ہے کہ ان اونٹوں کو یہاں آنے سے روکا جائے‘۔

اس کے علاوہ ان کا محکمۂ یہ بھی کوشش کر رہا ہے کہ لوگوں کو ایندھن کے متبادل ذرائع فراہم کیے جائیں تاکہ مینگروز کی کٹائی کو روکا جا سکے۔

کیٹی بندر میں چار سال کے دوران یہ دوسرا بڑا اجتماع تھا، جہاں مقامی اور بین الاقوامی میڈیا اور بیوروکریسی پہنچی لیکن یہاں اس وقت بھی پینے کے صاف پانی کی قلت ہے، سڑکیں کچی اور نکاسی آب کا نظام موجود نہیں ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اس ریکارڈ میں مقامی لوگوں کی دلچپسی اور شرکت نظر نہیں آئی۔

اسی بارے میں