’بازار میں آپ کی سکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے‘

Image caption میں بھاگنے والا نہیں۔ ملک و قوم کی خاطر جو بھی قربانی آئیگی دینے کےلیے تیار ہیں: سب انسپکٹر عتیق الرحمان باچا

سب انسپکٹر عتیق الرحمان باچا پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں گزشتہ تین سالوں سے ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ وہ روزانہ صبح جب ڈیوٹی کے لیے نکلتے ہیں تو یہ خوف ان کے ذہن میں ہوتا ہے کہ کہیں وہ بھی حملہ کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔

وہ ایک ایسے علاقے میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں جہاں خود عتیق الرحمان باچا کے بقول ’قدم قدم پر موت انتظار میں ہوتا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ متنی ایک انتہائی مشکل اور خطرناک علاقہ ہے جہاں ہر وقت ایک جنگ جیسی صورتحال ہوتی ہے۔

’پچھلے تین سالوں کے دوران ہمارے کئی فرض شناس اور بہادر ساتھی اس علاقے میں فرائض کے دوران شدت پسندوں کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں۔‘

عتیق الرحمان باچا کا تعلق ضلع صوابی سے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آج کل شاید ایسا کوئی دن گزرتا ہوگا کہ انہیں بیوی بچوں کی طرف سے فون نہ آیا ہو کہ پولیس کی نوکری چھوڑ کر گھر واپس آجاؤ۔ لیکن میں بھاگنے والا نہیں۔ ملک و قوم کی خاطر جو بھی قربانی آئیگی دینے کےلیے تیار ہیں۔‘

قبائلی علاقے کی سرحد پر واقع پشاور کے مضافاتی مقامات آج کل شدت پسند تنظموں کے نشانہ پر ہیں۔ ان میں بالخصوص متنی کا علاقہ انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے جس کی سرحدیں تین قبائلی علاقوں خیبر ایجنسی، ایف آر پشاور اور ایف آر کوہاٹ درہ آدم خیل سے جڑی ہوئی ہیں۔

پشاور شہر سے تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس علاقے سے مرکزی شاہراہ بھی گزرتی ہے جو پشاور کو خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع کوہاٹ، ہنگو، بنوں، کرک اور ڈیرہ اسمعیل خان سے ملاتی ہے جبکہ اس اہم سڑک سے کراچی کےلیے بھی گاڑیاں جاتی ہیں۔

اس علاقے میں جرائم کی نوعیت وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں۔

تقریباً پندرہ سال پہلے اس اہم شاہراہ پر ڈاکے، چوری اور اغواء برائے تاوان کے واقعات عام تھے اور اس وقت یہاں کئی جرائم پیشہ گروہ سرگرم تھے۔ ان دنوں شام کے بعد اس اہم سڑک سے مسافر گاڑیوں میں سفر کرنے والے افراد پولیس کے قافلوں میں درہ آدم خیل تک لے جایا جاتا تھا۔

لیکن جب پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو اس کے بعد سے یہاں حالات یکسر تبدیل ہوگئے۔ جن علاقوں میں جرائم پیشہ افراد کے اڈے قائم تھے وہ سب مقامات اب عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں آچکے ہیں جہاں سے اب زیادہ تر حملے فوج اور پولیس اہلکاروں پر ہوتے ہیں۔

لیکن کچھ عرصہ سے متنی اور آس پاس کے علاقوں میں اب ایک مرتبہ پھر سے نہ صرف سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آرہی ہے بلکہ یہاں اب حکومت کی عمل داری بھی تیزی سے کمزور ہوتی جارہی ہے۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہاں مختلف حملوں میں کوئی بیس سے زائد پولیس اور فوجی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے پہلے کبھی باقاعدہ آپریشن نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے یہاں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔

پشاور کی دفاعی لائن کے طورپر مشہور متنی اور بڈھ بیر کے علاقوں میں رات کے وقت حکومت کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ لیکن اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے دن کے وقت بھی آزادانہ گھومنا پھرنا مشکل ہورہا ہے۔

چند دن پہلے ہم پشاور کے مضافاتی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال پر رپورٹ بنانے گئے تو ایک پولیس موبائل بھی ہمارے ہمراہ تھی۔

متنی پولیس سٹیشن سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا بازار واقع ہے جہاں مقامی افراد خریداری کےلیے آتے ہیں۔ ہمارے کیمرہ مین بلال نے بازار کے کچھ شارٹس بنانے چاہے تو پولیس والوں نے فوراً روک لیا اور سختی سے کہا کہ ’ہم بازار میں آپ کی سکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے کیونکہ وہاں ہم خود بھی نہیں جاتے۔‘

یہ دن کا وقت تھا کوئی گیارہ بج رہے تھے اور یہ بازار متنی پولیس سٹیشن کے اتنا قریب ہے کہ وہاں سے نظر بھی آتا ہے۔

میں نے کہا کہ بازار ہے اور دن کا وقت بھی ہے یہاں اس وقت کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟

ایک پولیس اہلکار کہنے لگا کہ اس بازار میں اکثر اوقات خودکش حملوں کا خطرہ ہوتا ہے لہٰذا ایسے حالات میں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ’ہم آپ کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔‘

تاہم دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور کے سرحدی مقامات پر سکیورٹی کا انتظام مزید سخت کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں چوبیس نئی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔

پشاور پولیس کے ایس ایس پی ایریشنز عمران شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ بدقسمتی سے متنی اور قریبی علاقوں میں تشدد کے زیادہ تر واقعات رات کے وقت ہوتے ہیں جس میں اکثر اوقات دہشت گرد کاروائی کے بعد قبائلی علاقوں کی طرف فرار ہوجاتے ہیں جسکی وجہ سے ان پر قابو پانے میں مشکلات پیش آتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہت جلد ان علاقوں سے شدت پسندوں کا صفایا کردیا جائے گا۔

اسی بارے میں