’ایجنسیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں‘

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن عامہ کی صورت حال مایوس کن ہے اور شہری شدید خوفزدہ ہیں۔

کمیشن کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی تذلیل معمول بن چکی ہے، صوبے میں اغواء برائے تاوان کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور ان واقعات میں اغواءکاروں کا سراغ نہیں لگایا جاسکا جبکہ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے عملی طور پر صوبے میں اپنی سرگرمیاں ترک کردی ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کا دعویٰ ہے کہ فرقہ وارانہ جنگجو گروہ سزا کے خوف سے مبرا ہوکر کارروائیاں کررہے ہیں اور اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کےخلاف اقدام کرتے ہیں تو وہ ریاست سے انتقام لینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

زیارت میں محمد علی جناح کی رہائش گا اور کوئٹہ میں خود کش بم دھماکوں کے بعد ایچ آر سی پی کے اراکین عاصمہ جہانگیر، جسٹس ریٹائرڈ ملک سعید حسن، صحافی کامران شفیع، غازی صلاح الدین، ریسرچرنازش بروہی اور رافعہ عاصم پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم نے کوئٹہ اور زیارت کے دورے کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایچ آر سی پی کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم سے ملاقات کرنے والے تمام حلقے نو منتخب حکومت سے پُرامید ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سکیورٹی اور خفیہ اداروں کی پالیسی میں تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے کیونکہ ’مارو اور ٹھکانے لگاؤ اذیت رسانی اور ماورائے عدالت‘ ہلاکتوں کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔

فیکٹ فائنڈگ ٹیم کو اس قسم کے متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ماضی قریب میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تنظیموں اور بلوچ جنگجو گروہوں کے مابین عملی سطح پر رابطہ سازی پائی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایچ آر سی پی ان اطلاعات کی توثیق نہیں کرسکتا تاہم اس کا مطالبہ ہے کہ ان الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائے۔

ایچ آر سی پی بلوچستان حکومت سے انسانی حقوق کے مشیر کی تقرری کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ وزیراعلیٰ اور کابینہ کو صوبے میں انسانی حقوق کی صورت حال سے مکمل باخبر رکھا جاسکے اس کے علاوہ قانون سازی کے ذریعے ایک صوبائی انسانی حقوق کمیشن بھی تشکیل دیا جائے۔

انسانی حقوق کمیشن نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں، انھیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں بشمول جبری گمشدگیوں، من مانی گرفتاریوں، تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی قابل وثوق اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ آر سی پی کی ٹیم جب بلوچستان میں تھی تو ایف سی نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے مٹھ سے سات نوجوانوں کو اٹھا لیا اور بعد میں انھیں مبینہ طور پر ہلاک کردیا گیا۔

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق اگر سکیورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں نے اپنی جابرانہ پالیسیاں جاری رکھیں تو اس سے جمہوری عمل کو نقصان کے ساتھ لوگوں میں ریاست سے بیگانگی کا احساس پیدا ہوگا۔

کمیشن نے مطالبہ کیا کہ ایف سی اور خفیہ ایجنسیوں کے انتظامی سربراہان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے سخت پیغام دینا چاہیے۔

اسی بارے میں