خوش نصیب ارکانِ اسمبلی خواتین

Image caption مسلم لیگ نون کی ماروی میمن مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئیں

اگر کوئی امیدوار عام انتخابات میں کامیاب نہ ہوسکے اور پھر وہ رکن قومی اسمبلی بن کر حلف اٹھالے تو اس کو خوش نصیبی نہیں تو کیا کہیں گے۔

کچھ اس طرح کا معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی تین خواتین رہنماؤں کے ساتھ ہوا۔

پیپلز پارٹی کی شازیہ مری اور مسلم لیگ نون کی ماروی میمن اور تہمینہ دولتانہ نے اپنے اپنے آبائی علاقوں سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب لڑا تاہم یہ تینوں خواتین کامیاب نہ ہوسکیں البتہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں۔

ان خواتین میں مسلم لیگ نون کی تہمینہ دولتانہ سب سے زیادہ خوش قسمت ہیں کیونکہ ان کا نام خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا اور عام انتخابات میں اپنی نسشت پر کامیاب نہ ہوسکیں لیکن اس سب کے باوجود وہ رکن اسمبلی بن گئیں۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے ارکانِ اسمبلی کی تعداد زیادہ ہونے کے وجہ سے مخصوص نشستوں کے لیے اضافی فہرست دینا پڑی اور اس فہرست میں تہمینہ دولتانہ کا نام بھی شامل کردیا گیا۔

Image caption پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے اپنے آبائی علاقے سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب لڑا تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکیں

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور انتخابات میں حصہ لیا لیکن اس مرتبہ صرف چھ خوش قسمت خواتین ہی قومی اسمبلی میں پہنچ سکیں ان میں تین کا تعلق پنجاب اور تین کا سندھ سے ہے۔

عام نسشتوں پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والی خوش نصیب چار خواتین میں موجودہ اور سابق صدرد کی قریبی رشتہ دار ہیں۔

عذرا افضل اور فریال تالپور صدر مملکت آصف علی زرداری کی بہنیں ہیں ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دونوں بہنیں دوسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں۔

سائرہ افضل تاڑر پاکستان کے سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ رفیق تاڑر کی بہو ہیں اور دوسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی بنیں اور ان کو وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

تیسری مرتبہ متواتر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہونے والی سمیرا ملک سابق صدر فاروق لغاری کی بھانجی ہیں۔

قومی اسمبلی کی لگاتار تین مرتبہ رکن بننے والی خواتین میں فہمیدہ مزرا، عذرا افضل، سمیرا ملک ، غلام بی بی بھروانہ اور تہمینہ دولتانہ شامل ہیں۔

Image caption تیسری مرتبہ متواتر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہونے والی سمیرا ملک سابق صدر فاروق لغاری کی بھانجی ہیں

سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مزرا جہاں تیسری مرتبہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں وہیں ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ گوہر ایوب کے بعد دوسری سپیکر قومی اسمبلی ہیں جنھوں نے نہ صرف نومنتخب ارکان اسمبلی سے حلف لیا بلکہ خود بھی نئی اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

پیپلز پارٹی کی بیلم حسنین بھی خوش قسمت خواتین ارکان اسمبلی میں سے ایک ہیں کیونکہ ان کے اور مسلم لیگ قاف کی تنزیلہ چیمہ کے درمیان رکنِ قومی اسمبلی کا رکن بننے پر ٹائی پڑ گئی اور الیکشن کمیشن میں دونوں خواتین کے درمیان ہونے والی قرعہ اندازی میں بیلم حسنین کو کامیابی نصیب ہوئی۔

اس طرح بیلم حسنین دوسری مرتبہ رکن اسمبلی بن گئی اور تنزیلہ چیمہ ہیٹ ٹِرک نہ کرسکیں۔

مسلم لیگ نون کی انوشہ رحمان واحد رکن قومی اسمبلی ہیں جو دو مرتبہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر چنی گئی اور اب وفاقی کابینہ کی رکن ہیں۔

سینیٹر جعفر اقبال کی بیٹی زیب جعفر اس اعتبار سے خوش قسمت ہیں کہ وہ پہلے صوبائی اسمبلی کی رکن تھی اور اس مرتبہ وہ خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی بن گئی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما ثمینہ گھرکی اور سینیٹر اعتزاز احسن کی اہلیہ بشری اعتزاز نے جہاں عام نشست پر لاہور سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا وہیں ان کا نام خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست میں بھی شامل تھا لیکن رکن اسمبلی بننا ان کے نصیب میں نہیں تھا۔

اسی طرح کی صورتِ حال کا سامنا تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی کرنا پڑا لیکن وہ نہ تو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کو مات دے سکیں نہ مخصوص نشست پر قومی اسمبلی میں پہنچ سکیں۔

اسی بارے میں