تین صوبوں میں حملے: چودہ ہلاک، جج سمیت متعدد زخمی

  • 26 جون 2013
Image caption پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر جسٹس جج مقبول باقر کا قافلہ وہاں سے گز رہا تھا

پاکستان کے چار شہروں کراچی، بنوں، پشاور اور آواران میں شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں دس سکیورٹی اہلکاروں سمیت چودہ افراد ہلاک جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے ایک سینیئر جج سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

کالعدم تحریکِ طالبان کے مرکزی ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے کراچی، بنوں اور پشاور میں کیے گئے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں دھماکہ بدھ کی صبح برنس روڈ پر واقع سندھ ہائی کورٹ کے ججز گیٹ سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہوا۔

سندھ کے صوبائی وزیرِاطلاعات شرجیل میمن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جن میں چھ پولیس اور ایک رینجرز اہلکار شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دھماکے میں پندرہ افراد زخمی ہو گئے۔

ڈی آئی جی کراچی ساؤتھ امیر شیخ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بم دھماکے میں سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر جج جٹس مقبول باقر کو نشانہ بنایا گیا تھا‘۔انھوں نے کہا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں جسٹس مقبول باقر کے ڈرائیور بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکہ موٹر سائیکل میں نصب بم کی وجہ سے ہوا۔ تاہم مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کی جار رہی ہیں۔

جسٹس مقبول باقر تین پولیس موبائلز اور موٹر سائیکل پر سوار رینجرز اہلکاروں کی حفاظت میں اپنی رہائش گاہ سے ہائی کورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ برنس روڈ پر اردو بازار چوک کے قریب صبح ساڑھے آٹھ بجے دھماکہ ہوا۔

ایس ایس پی جنوبی ناصر آرائیں کا کہنا ہے کہ برنس روڈ سے یہ قافلہ جیسے ہی کورٹ روڈ کی طرف مڑا اور اس کی رفتار کم ہوئی تو بم دھماکہ کیا گیا۔

جائے وقوعہ کی دونوں طرف مساجد ہیں اور درمیان میں ایک سڑک ہائی کورٹ کے ججز گیٹ کی طرف جاتی ہے، دھماکے کے نتیجے میں ایک مسجد کی دیواروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بم موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، جس کا ڈھانچہ قبضے میں لیا گیا ہے۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ دیسی ساخت کے بم میں چھ سے سات کلوگرام دھماکہ خیز مواد اور بال بیئرنگ بھی استعمال کیے گئے تھے، جسٹس مقبول باقر کی کار ان بیئرنگ سے شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ ایک پولیس موبائل دھماکے کے باعث الٹ گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جسٹس مقبول باقر شدت پسند فرقہ وارانہ تنظیموں کے نشانے پر تھے اور اسی لیے انہیں غیر معمولی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔

سندھ کے چیف سیکرٹری اعجاز چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’ جسٹس مقبول باقر کو مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور وہ اپنی معمول کی ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے۔’ جج کے لیے ہر مقدمہ اہم نوعیت کا ہوتا ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کسی اہم مقدمے کی سماعت کرنے جا رہے تھے۔‘

دوسری جانب جسٹس مقبول باقر کو شہر کے سب سے بڑے نجی ہپستال میں داخل کیا گیا ہے، جہاں ان کا آپریشن کیا جائے گا۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے ان کی عیادت کی بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جسٹس مقبول باقر خیریت سے ہیں ان کی بات ہوئی ہے وہ باہمت انسان ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق دوسرا دھماکہ خیبر پختوانخوا کے شہر بنوں کے علاقے زندی اکبر خان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے ہوا۔دھماکے کے نتیجے میں امن کمیٹی کے سربراہ ملک حاکم خان، ان کے بیٹے اور بھتیجے ہلاک ہوگئے۔

Image caption پشاور میں پچھلے تین دنوں کے دوران کسی پولیس افسر پر دن دہاڑے ہونے والے یہ دوسرا حملہ ہے

ہمارے نامہ نگار کے مطابق فائرنگ کے ایک واقعے میں پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ میں پولیس ایس ایچ او میرا جان ہلاک ہو گئے ہیں۔ میرا جان حیات آباد پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او تھے۔

پشاور پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز عمران شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ حیات آباد تھانہ کے ایس ایچ او میرا جان افغانستان سے آنے والے نیٹو کنیٹرز کے حفاظت کےلیے پولیس پارٹی کے ساتھ مرکزی جمرود سڑک پر موجود تھے کہ اس دوران دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ سے ایس ایچ او ہلاک جبکہ ان کے محافظ اور ڈرائیور شدید زخمی ہوگئے۔

تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ انہوں نے جسٹس مقبول باقر پر حملہ ان کے عدالتی فیصلوں کی وجہ سے کیا ہے۔ بنوں اور پشاور میں حملوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی سکیورٹی فورسز اور ان کے مخالفین کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ ہے۔

صحافی محمد کاظم کے مطابق صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران میں ایک دیسی ساختہ بم دھماکے میں دو ایف سی کے اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ بدھ کو آواران کے علاقے مشکے میں پیش آیا۔

اسی بارے میں