’پاکستان نے طالبان پر اثر و رسوخ استعمال کیا‘

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے طالبان پر اپنا تمام ممکنہ اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں مذاکرات کے لیے آمادہ کیا اور اور یہی کام پاکستان نے امریکہ کے ساتھ بھی کیا۔

یہ بات دفترخارجہ کے ترجمان اعتزاز احمد چوہدری نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہی۔

ترجمان نے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کی ساری تفصیلات تو نہیں بتائی جا سکتیں اور نہ ہی وہ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے طالبان کے ساتھ کس حد تک رابطہ اور تعلق ہے‘۔

تاہم انہوں نے کہا ’اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے طالبان پر اپنا تمام ممکنہ اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں مذاکرات کے لیے آمادہ کیا اور یہی کام پاکستان نے امریکہ کے ساتھ بھی کیا یعنی اسے بھی مذاکرات کے لیے آمادہ کیا کیونکہ پاکستان دوحہ میں جاری اس مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے اوراس کے مثبت نتائج سے خوش ہے۔

تاہم وہ خود کبھی ان مذاکرات کا باضابطہ حصہ نہیں بنے گا کیونکہ ہماری دلچپسی ہے کہ کسی بھی ایسے عمل کی تکمیل افغانستان کے ذریعے ہی ہو۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کے خلاف مقدمات بند کرنے کے لیے سوئس حکام کو لکھے گئے دوسرے خط سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ خط ان کے ذریعے نہیں بھیجا گیا تھا۔

ہمارے نامہ نگار محمود جان بابر نے بتایا کہ جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے دفترخارجہ کے ترجمان چوہدری اعزاز سید کا کہنا تھا کہ سوئس حکام کو صدر زرداری کے خلاف مقدمات بند کرنے کے لیے گذشتہ روز منظر عام پر آنے والے خط کو دفتر خارجہ کے ذریعے نہیں بھیجا گیا۔

واضح رہے کہ اٹارنی جنرل نے بدھ کو سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سیکریٹری قانون یاسمین عباسی نے بائیس نومبر سنہ دو ہزار بارہ کو ایک اور خط سوئس حکام کو خط لکھا تھا۔

اس خط میں کہا گیا تھا کہ آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات بند کر دیے جائیں اور اس ضمن میں حکومت کو آگاہ کر دیا جائے اس خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ مقدمات کھولنے سے متعلق پہلا خط سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں لکھا گیا تھا۔

ترجمان چوہدری اعزاز سید سے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے پاکستان میں نمائندے رضا الحسن لشکر کو مزید قیام کی اجاز ت نہ دینے کے پاکستانی فیصلے کے بارے میں جب سوال کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے معاملات وزارت اطلاعات کے ذریعے طے ہوتے ہیں اور وہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

اسی بارے میں