پولیس مطمئن کرے تبھی تعاون ہوگا: جرگہ

فائل فوٹو
Image caption 23 جون کو ہونے والے اس واقعہ میں دس غیر ملکی سیاح قتل کردیے گیے تھے

گلگت بلتستان کے علاقے دیامیر جرگے کا کہنا ہے کہ جب تک پولیس اور انتظامیہ اُنہیں مطمئن نہیں کرتی اس وقت تک غیر ملکی کوہ پیماؤں کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے تعاون نہیں کیا جائے گا۔

جبکہ گلگت بلتستان کی حکومت کا دعوٰی ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے جرگے نے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں سیکورٹی فورسز آپریشن کرنے سے متعلق جو فیصلہ کریں گی توحکومت سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہوں گی۔

دیا میر جرگے کے رہنما حیدر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری اور پولیس کے سربراہ نے اُنہیں اعمتاد میں لیے بغیر ہی اُن پندرہ افراد کے ناموں کا اعلان کردیا جو ممکنہ طور پر غیر ملکی سیاحوں کے قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر ان دو افسران کے پاس ساری معلومات ہیں تو پھر اُن افراد کے خلاف خود کارروائی کیوں نہیں کرتے جرگے کی مدد کیوں لے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے، قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کے افسران بھی ابھی تک لاعلم ہیں کہ کون لوگ اس واقعہ میں ملوث ہیں۔

گلگت بلستسان کے چیف سیکرٹری اور پولیس کے سربراہ نے دو روز قبل مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پندرہ افراد کی نشاندہی کی تھی جو کہ غیر ملکی سیاحوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ ان میں سے دس کا تعلق دیامیر سے، تین کا تعلق چلاس سے جبکہ دو کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے اس واقعہ کا ماسٹر مائنڈ عبدالمجید کو قرار دیا ہے۔

حیدر خان کا کہنا ہے کہ جرگے کے ارکان بھی چاہتے ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے لیکن اس طرح کسی بےگناہ شخص کو کسی طور بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے میں مدد نہیں دی جائے گی۔

حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قانون ساز اسمبلی مرزا حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے بنائی گئی گیارہ رکنی ٹیم نے دیامر میں قائم ہونے والے جرگے سے ملاقات کی ہے اور اس واقعہ میں ملوث کچھ افراد کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن کی گرفتاری کے لیے جرگے نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ علاقے کی روایت کے مطابق جرگے کے ارکان ان مشتبہ افراد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں دینے سے متعلق اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں گے۔

مرزا حسین کا کہنا تھا کہ اگر جرگہ تعاون کرنے میں ناکام رہا اور سیکورٹی اداروں نے بڑی کارروائی کا فیصلہ کیا تو گلگت بلتستان کی حکومت سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہوں گی۔

مقامی پولیس سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اب بھی علاقے کا سرچ آپریشن کر رہی ہے لیکن ابھی تک اُنہیں مطلوبہ افراد کو گرفتار کرنے میں کامیابی نہیں ملی۔ پولیس اور سیکورٹی اداروں نے اس واقعہ کے بعد چالیس کے قریب افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں سے اکثریت کو رہا کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 23 جون کو ہونے والے اس واقعہ میں دس غیر ملکی سیاح قتل کردیےگیے تھے جن میں چین، یوکرائن، سلواکیہ اور نیپال کے باشندے شامل ہیں۔ چین نے اس واقعہ سے متعلق مکمل تحقیقات کرنے اور چینی باشندوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے بارے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اسی بارے میں