بی بی سی صحافیوں کی ملازمت کے خاتمے پر احتجاج

پاکستانی پارلیمان کی کارروائی کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے جمعہ کو بی بی سی پاکستان میں نو صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالے جانے پر پریس گیلری سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اس کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔

دوسری جانب بی بی سی اردو نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوکریوں میں کٹوتیوں کے بارے میں مارچ سال دو ہزار تیرہ میں عملے کو آگاہ کر دیا تھا اور اس ضمن میں بی بی سی کی پالیسی اور پاکستان کے لیبر قوانین کی روشنی میں انتخاب کا منصفانہ عمل اپنایا گیا۔

بی بی سی کے مطابق بچت کے لیے ایک جامع جائزہ’سی آر ایس‘ شروع کیاگیا اور ’پاکستان میں 69 لوگوں پر مشتمل عملے میں سے 10 کی نوکریاں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا، ان میں نو اداراتی عہدے اور ایک انتظامی عہدہ شامل تھا‘۔

بی بی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی پاکستان میں 30 صحافیوں سمیت 60 افراد کا عملہ ہے۔ ان صحافیوں کو تربیت یافتہ کمیرہ مین، ویڈیو اور آڈیو ایڈیروں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کی خدمات حاصل ہیں۔

بی بی سی اردو نے مزید کہا ’پاکستان میں بی بی سی صحافیوں کی تعداد میں پچھلے پانچ سالوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پانچ برس پہلے پاکستان میں بی بی سی کا کل عملہ 20 افراد پر مشتمل تھا۔ یہ ٹیم 20 سالوں میں بڑھی ہے اور ہم پاکستان میں رپورٹنگ کے لیے قابلِ ذکر وسائل قائم رکھے ہوئے ہیں‘۔

ایوان کی کارروائی کے دوران وزیر اطلاعات پرویز رشید کی توجہ جب صحافیوں کے احتجاج کی جانب مبذول کروائی گئی تو وہ ایوان سے اٹھ کر پریس گیلری میں آئے۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت تمام ورکرز کی طرح صحافی برادری کے حقوق کا بھی پوری طرح تحفظ کرے گی۔ انھوں نے صحافیوں کو یقین دلایا کہ حکومت صحافیوں کی برطرفیوں کے معاملے پر متعلقہ افراد اور اداروں سے رابطہ کرے گی۔

وزیر اطلاعات کی اس یقین دہانی پر صحافی پریس گیلری میں لوٹ آئے۔

وزیرِ اطلاعات نے بعدازاں قومی اسمبلی کو بتایا کہ بی بی سی کے نو صحافیوں کو ملازمتوں سے ’برطرف‘ کر دیا گیا ہے جس کے باعث صحافی برادری میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور وہ اس سلسلے میں برطانوی سفیر سے رابطہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اور اس ضمن میں ریگولیٹری اداروں اور قوانین کو بھی مؤثر بنایا جائے گا۔

اسی بارے میں