ترقیاتی فنڈز مقدمہ:سابق وزیر اعظم عدالت میں طلب

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوابدیدی ترقیاتی فنڈز کی مد میں بیالیس ارب روپے سے زائد کی رقم دینے پر سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو سولہ جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔

عدالت کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے ذریعے اُن افراد کو بھی تلاش کیا جائےگا جنہیں یہ ترقیاتی فنڈز دیےگئے۔

چیف جسسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس از خودنوٹس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اس ضمن میں کوئی بھی آرڈر جاری کرنے سے پہلے سابق وزیر اعظم کا موقف سُننا چاہتی ہے۔

عدالت کی طرف سے پیپلز ورکس پروگرام ٹو کے تحت استفادہ کرنے والے پارلیمنٹرینز اور اتھارٹی کو بھی نوٹس جاری کیے کیےگئے ہیں تاہم عدالت میں ان ارکان پارلیمنٹ اور اتھارٹیز کے نام نہیں بتائے گئے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے نگراں حکومت کے قیام سے چند ہفتے پہلے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقوم جاری کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ راجہ پرویز اشرف نے فنڈز جاری کرتے وقت متعدد قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔

اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان کے نمائندوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کے پاس یہ صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ ترقیاتی فنڈز قومی منصوبوں سے نکال کر مقامی ترقیاتی منصوبوں میں لگانے کی اجازت دیں لیکن اس کے لیے متعقلہ وزارتوں اور اداروں سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔

پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں نے عدالت کو بتایا کہ ضلع چکوال کی تین شخصیات کو چودہ کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں دیے گئے۔

بینچ میں موجود جسٹس چوہدری اعجاز نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا موجودہ حکومت نے مُک مکا کرلیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی اور اگر ایسا ہے تو پھر عدالت کو بتایا جائے تاکہ عدالت اس ضمن میں مناسب اقدامات کرسکے۔

منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ بات وفاقی حکومت کے نوٹس میں لائیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے بیوروکریٹس کے حق میں متعدد فیصلے دیے اور اُنہیں یہ بھی کہا کہ وہ کوئی غیر قانونی احکامات تسلیم نہ کریں لیکن اس کے باوجود وہ ایک کال پر ڈھیر ہوجاتے ہیں۔