کھلونا بموں سے اموات، معذوری میں اضافہ

حشمت
Image caption حشمت کھلونا بم کے پھٹنے کے باعث عمر بھر کے لیے دونوں ہاتھوں سے محروم ہوچکے ہیں۔

پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں کھلونا بموں کی وجہ سے اب تک سینکڑوں افراد یا تو جان سےگئے یا پھر عمر بھر کے لیے معذور ہوچکے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔

ملاکنڈ ڈویژن میں امن کی بحالی کے بعد کثرت سے کھلونا بموں کے پھٹنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ کھلونا بموں کے پھٹنےکے باعث ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی صحیع تعداد دستیاب نہیں ہے تاہم شورش زدہ علاقوں میں کھلونا بموں کے پھٹنے کے باعث زیادہ تر بچے ہاتھ پیروں سے عمر بھر کے لیے محروم ہوچکے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ روز ضلع لوئر دیر کے علاقے میدان میں پیش آیا۔ پولیس حکام کے مطابق ایک بچی قریبی پہاڑی سے کھلونا نما بم گھر لے آئی جو کھیل کھود کے دوران اچانک پھٹ گیا۔ دھماکے میں چار سالہ بچی موقع پر ہی ہلاک ہوگئی جبکہ دیگر پانچ بچے شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

ضلع دیر لوئر سے تعلق رکھنے والے کئی بچے اِن کھلونا بموں کی وجہ سے یا تو ہلاک یا پھر عمر بھر کے لیے معذور ہوچکے ہیں ایسی ہی کہانی میدان سے تعلق رکھنے والے سولہ سالہ حشمت کی بھی ہے جو کھلونا بم کے پھٹنے کے باعث عمر بھر کے لیے دونوں ہاتھوں سے محروم ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فوج نے اپنے وسائل سے انہیں مصنوعی ہاتھ لگا تو دیے ہیں لیکن وہ اس وقت کو بڑی شدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں جب ان کے اصلی ہاتھ سلامت تھے ان کا کہنا تھا کہ میں اس وقت کو یاد کر کے بہت غمگین ہوجاتا ہوں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شورش زدہ علاقوں میں ایسے اقدامات اٹھائیں کہ مستقبل میں ہونے والے ایسے واقعات سے بچا جاسکے اور ان کی طرح اور بچے عمر بھر کی معذوری سے بچ سکیں۔

سوات میں آئی ایس پی آر کے ترجمان کرنل ذیشان فیصل نے بی بی سی کو بتایا کہ کھلونا بموں کے پھٹنے سے چھوٹی عمر میں ہاتھوں اور پاؤں سے معذور ہونے والے بچوں کی معذوری کا احساس کرتے ہوئے پاکستانی فوج ان کے علاج میں ہر ممکن مدد کر رہی ہے

مبصرین کے مطابق شورش زدہ علاقوں میں اس قسم کے واقعات کے تدارک کے لیے ان علاقوں کے لوگوں کے لیے رہنما اصول اور احتیاطی تدابیر کا جاننا بہت ضروری ہیں کیونکہ یہ انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ بہت بڑا انسانی مسئلہ ہے اور ان کے لیے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں