کوئٹہ، پشاور میں دھماکے، پینتالیس ہلاک، سو سے زیادہ زخمی

Image caption پشاور کے علاقے بڈبھیر میں ہونے والے بم حملے میں کم از کم سترہ افراد ہلاک ہوئے

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور خیبر پختونخوا کےدارالحکومت پشاور میں اتوار کو ہونے والے دھماکوں میں کم از کم پینتس افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ کے مغربی علاقے ہزارہ ٹاؤن میں رات آٹھ بجے ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے جس میں کم ازکم اٹھائیس افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے اتوار کی بعد دوپہر کو پشاور میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم سترہ افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

کوئٹہ پولیس کے اعلیٰ افسر ڈی آئی جی فیاض سنبل نے بتایا ہے کہ ہزارہ ٹاؤن کے علاقے میں ہونے والا دھماکہ خود کش حملے کا نتیجہ ہے ۔

سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر محمود نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس حملے میں اٹھائیس افراد کی موت کی تصدیق کی۔ انھوں نے بتایا کہ پچاس افراد زخمی ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک بچی سمیت دس خواتین بھی شامل ہیں۔

میر زبیر محمود نے بتایا کہ یہ حملہ ایک سائیکل سوار خودکش حملہ آور نے کیا۔

Image caption بارود سے بھرے گاڑی کو سڑک کے کنارے کھڑا کیا تھا

ہزارہ ٹاؤن میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی آبادی ہے اور اسے پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ رواں سال فروری میں فروٹ مارکیٹ میں ہونے والے ایک زوردار دھماکے میں کم از کم سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اتوار کی دوپہر صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں نیم فوجی دستے کے ایک قافلے کے قریب ریموٹ کنٹرول دھماکے سے دو بچوں سمیت سترہ افراد ہلاک اورتین ایف سی کے اہلکاروں سمیت سینتالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ بعد دوپہر اینڈس ہائی وے پر بڈھ بیر تھانے کے قریب پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت فرنٹیئر کور کی تین گاڑیاں اس مقام سے گزر رہی تھیں۔ دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا جو سڑک کے ایک جانب پارک کی گئی تھی۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس شیع اللہ خان کے مطابق اس حملے میں چالیس کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے اور بظاہر اس کا نشانہ سیکیورٹی اہلکاروں کا قافلہ تھا۔

جس مقام پر دھماکہ ہوا ہے وہاں شربت ، سبزیاں اور پھل بیچنے والے کھڑے تھے ۔ دھماکے کے بعد عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہر طرف دھواں پھیل گیا تھا اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

ایک دس سالہ بچے محمد ادریس نے یہ دھماکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔

محمد ادریس نے بتایا کہ ’ میں یہاں موجود تھا کہ اس دوران زور دار دھماکہ ہوا اور میں گرگیا تھا، کچھ دیر مجھے ہوش نہیں تھا پھر میں خود اٹھا ایک طرف چلا گیا اس وقت فوجی فائرنگ کر رہے تھے تو میں چھپ گیا تھا ایک زحمی مجھے ہاتھ کے اشارے سے بلا رہا تھا لیکن میں ڈرگیا تھا۔‘

پشاور کے ڈپٹی کمشنر جاوید مروت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں کے باجود شدت شدت پسند اپنی چالوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس میں عام شہریوں کا نقصان ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت بھی ایک آپریشن جاری تھا۔ انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی موجودگی ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے لیکن پھر بھی شدت پسند اپنی کارروائیوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

بڈھ بیر اور متنی کے علاقے پشاور کی لائف لائن سمجھی جاتی ہے لیک کوئی ڈیڑھ سال سے ان علاقوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور کوئی دو ماہ سے بڈھ بیر اور متنی کے علاقے سے گزرنے والی اہم شاہراہ پر سیکیورٹی فورسز پر حملے بڑھ گئے ہیں۔

بڈھ بیر سے ہی تعلق رکھنے والے محقق اور تـجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کا کہنا ہے کہ حقیقت میں پشاور کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں حکومت کی عملداری کہیں نظر نہیں آ رہی۔

گزشتہ سال دسمبر میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر اور متنی میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔ حکومت کی جانب سے ان حملوں کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

اس کے علاوہ آج پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں میر علی کے قریب سیکیورٹی فوسرز کے ایک قافلے پر حملے میں تین اہلکار ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ قافلہ بنوں سے میرانشاہ جا رہا تھا اور اس کے لیے بنوں میرانشاہ روڈ پر کرفیو نافذ تھا مقامی لوگوں کے مطابق نامعلوم افراد نے سڑک کے کنارے دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا تھا جس سے دھماکہ ہوا ہے ۔