’40 ارب روپے کی بدعنوانی‘ پر تحقیقات کاحکم

Image caption سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سربراہ کو ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے حکام کی جانب سے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں مبینہ طور پر 40 ارب روپے کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم اس ادارے کے سابق سربراہ ظفراقبال گوندل کو ادا کی گئی اور اُنہوں نے ہی اس رقم کی منتقلی سے متعلق احکامات جاری کیے تھے۔

ایف آئی اے کے ڈی جی کا کہنا ہے کہ ظفراقبال کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ اس بدعنوانی میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس میں ڈی جی سرمایہ کاری وحید خورشید بھی شامل ہیں۔

ای او بی آئی کے سابق سربراہ ظفر اقبال گوندل سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوندل کے بھائی ہیں۔

عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو دس روز میں تحققیات مکمل کرنے کا حکم دیا ہے اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریز کو اس ضمن میں ایف آئی اے کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے ای او بی آئی میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی بدعنوانی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی ۔

عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ای او بی آئی میں چالیس ارب روپے کی بےضابطگیاں ہوئی ہیں جن میں سے پندرہ ارب روپے سے زائد کی رقم کی زمین خریدی گئی ہے اور یہ زمین کسی ادارے کے نام پر نہیں بلکہ ایک تعمیراتی فرم کے نام پر کی گئی ہے جبکہ یہ پیسہ نیم سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد کا ہے۔

ای او بی آئی کے سیکرٹری عبدالخالق نے عدالت کو بتایا کہ ملازمین کی طرف سے جمع کروائی گئی رقم سے لاہور میں ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی میں پندرہ ارب روپے کی زمین خریدی گئی اور یہ زمین ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے نام کردی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جس شخص نے یہ کام کیا تو کیا اُس کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی جس پر ای او بی آئی کے سیکرٹری عبدالخالق کا کہنا تھا کہ وہ شخص پہلے ہی کسی اور جُرم میں جیل میں ہے۔

سیکرٹری ای او بی آئی کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین کے دور میں34 ارب روپے کی اراضی خریدی گئی تھی۔

آڈیٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اُن کاادارہ ای او بی آئی کا آڈٹ کرنا چاہتا تھا لیکن تحریری حکمنامے کے ذریعے اُنہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔

Image caption چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے ای او بی آئی میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی بدعنوانی سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت کی

سیکرٹری ای او بی آئی نے کہا کہ اس کے علاوہ مختلف کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ مہنگی قسم کی گاڑیاں بھی خریدی گئیں۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ گاڑیاں ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے دوران اُمیدواروں کی طرف سے شروع کی جانے والی انتخابی مہم کے دوران بھی استعمال ہوئیں تھیں۔

اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ سابق چیئرمین کو انتخابات میں سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے پر اُن کے عہدے سے فارغ کیا گیا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی سطح پر بدعنوانی ہوئی تو کیا اُس وقت کی حکومت یا نگراں حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی تو عبدالخالق کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے دور میں الیکشن کمیشن نے ظفراقبال کو تبدیل کرنے کو کہا تھا۔

ڈی ایچ اے کے سابق ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ محمد طارق نے عدالت کو بتایا کہ ای او بی آئی نے جب یہ زمین خریدی تو ڈی ایچ اے لاہور کے انچارج نے بغیر کوئی پیسہ لیے یہ اراضی نجی تعمیراتی کمپنی کے نام پر منتقل کردی۔

محمد طارق کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے اور قومی احتساب بیورو کے علم میں لے کر آئے اور اُن سے متعقلہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا لیکن اس کے برعکس اُنہیں (طارق) کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس از خود نوٹس کی سماعت بارہ جولائی تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں