’آئی ایم ایف کا پرانا قرض ادا کرنے کے لیے نیا قرض‘

Image caption بجلی اور گیس کے بلوں پر سبسڈی کو ختم کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر رکھا ہے: وزیر خزانہ

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کو پانچ ارب تیس کروڑ ڈالر کا قرض دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس کے بدلے پاکستان کو اپنے ٹیکس نظام میں اصلاحات اور سبسڈی کے خاتمے سمیت بعض مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے وفد کے سربراہ جیفری فرینکس نے کہا کہ یہ رقم آئندہ تین سال میں پاکستان کو ادا کر دی جائے گی۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ رقم پاکستان کے ذمہ آئی ایم ایف ہی کا قرض واپس کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

’میں نے آئی ایم ایف سے درخواست کی ہے کہ ہمیں یہ قرض کم از کم اتنی مقدار کی اقساط کی صورت میں ادا کیا جائے تاکہ آنے والی قسط سے ہم واجب الاد قرض کی قسط ادا کر سکیں۔ اور نئے قرض کی ملنے والی اقساط واجب الادا اقساط سے کسی طور کم نہ ہوں۔‘

جیفر فرینکس کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے قرض کی یہ درخواست ستمبر میں آئی ایم ایف بورڈ کے سامنے پیش کی جائے گی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے اس منظور شدہ پانچ اعشاریہ تین ارب کے علاوہ دو ارب ڈالر مزید حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے جس پر بعد میں غور کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کے نمائندے نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے اس پروگرام میں شمولیت کے بعد پاکستان کو اپنی معیشت کو درست سمت دینے کے لیے بعض مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، جن کی جھلک حالیہ بجٹ میں دکھائی دے رہی ہے۔

’کچھ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے اور حکومت اس جانب پہلے ہی پیش رفت کر رہی ہے تاکہ اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھا کر غربت کو کم کیا جا سکے اور پاکستانی عوام کو بہتر معیار زندگی دیا جا سکے۔ اس کے لیے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ معیشت زیادہ تیزی سے ترقی کر سکے۔‘

پاکستان کے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے بجلی اور گیس کے بلوں پر دی جانے والی رعایتی قیمتوں یا سبسڈی کو ختم کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر رکھا ہے۔

’سبسڈیز کو مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا۔ لیکن بجٹ میں ہم نے اس سال کے لیے سبسڈی فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ لہذٰا ہمارا وعدہ ہے کہ حکومت جو بھی رعایت لوگوں کو دے رہی ہے وہ یکمشت واپس نہیں لی جائے گی۔‘

وزیرخزانہ نے اصرار کیا کہ آئی ایف کے ساتھ جو بھی معاہدہ ہوا ہے وہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی معاشی پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے اور آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کے معاشی ایجنڈے سے ہٹ کر نہ کوئی شرائط پیش کی گئیں اور نہ حکومت نے قبول کیں۔

آئی ایم ایف کے نمائندے نے بھی صحافیوں کو یقین دلایا کہ پاکستان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ شفاف ہے اور اس میں کوئی خفیہ شرائط نہیں ہیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت گزشتہ ماہ کی انیس تاریخ سے ہو رہی تھی۔

اسی بارے میں