لاپتہ افراد: ’حکم مانیں ورنہ فوجداری مقدمات‘

Image caption پشاور ہائی کورٹ نے وزارتِ داخلہ کو حکم دیا کہ وہ خفیہ اداروں کے سیکٹر اور لوکل کمانڈروں کو ہدایت جاری کرے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں جو بے گناہ ہیں ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے

پشاور ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق تفصیلی ریکارڈ پیش نہ کرنے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اگلی پیشی پر لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں مطلوبہ معلومات عدالت میں پیش نہ کی گی تو خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کر کے ان کی تقریریاں روک دی جائیں گی۔

یہ احکامات پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قیصر رشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعرات کو ایک سو تئیس ایک جیسی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔

چیف جسٹس دوست محمد خان نے سماعت کے دوران برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے کیسسز کی سماعت کئی سالوں سے جاری ہے اور وہ ہر پیشی پر ایک نیا حکم نامہ جاری کرتے ہیں لیکن نہ خفیہ اداروں کی طرف سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیا جاتا اور نہ لاپتہ افراد سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے وزارتِ داخلہ کو حکم دیا کہ وہ خفیہ اداروں کے سیکٹر اور لوکل کمانڈروں کو ہدایت جاری کرے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں جو بے گناہ ہیں ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاہم جن کے خلاف الزامات ہیں ان کو حراستی سینٹرز منتقل کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اگلی پیشی سے قبل ان احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے خلاف خود بخود فوجداری مقدمات قائم ہو جائیں گے اور ان کی تقرریاں روک کر ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔

عدالت نے تمام کیسوں کی سماعت 21 اگست تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں چند سال پہلے سکیورٹی فورسز کی طرف سے شروع کیے جانے والے آپریشنوں میں مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد کو دہشت گردی اور شدت پسندی کے الزامات کے تحت خفیہ اداروں نے حراست میں لے لیا تھا۔

ان گرفتار ہونے والوں میں سینکڑوں افراد عدالتوں کے حکم پر رہا کیے جا چکے ہیں تاہم ہزاروں افراد اب بھی ایسے ہیں جو سکیورٹی فورسز کی طرف سے قائم حراستی مراکز میں بند ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں